راولپنڈی اور اسلام آباد میں اربن فلڈنگ سے متعدد علاقے ڈوب گئے، کروڑوں کا نقصان
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اُس سے جڑے شہر راولپنڈی میں منگل کی صبح موسلادھار بارش کے بعد کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے-
اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں بارش کے نالے کے بپھرنے کے بعد اس کے ساتھ اور قریبی دکانوں کو مسمار کرنے کے لیے مشینری لائی گئی-
ایکسپریس وے پر دو فٹ پانی جمع ہونے کے بعد اسلام آباد کی طرف روات اور جہلم سے آنے والی ٹریفک متاثر ہوئی- سیکٹر آئی ایٹ کے مرکز اور کامسیٹس یونیورسٹی کے علاقے میں بارش کے پانی کے باعث سینکڑوں گاڑیاں ڈوب گئیں-
اسلام آباد کے غوری ٹاؤن کے ملحقہ رہائشی علاقے ڈوبنے سے شہریوں کو گاڑیوں اور گھروں کا سامان تباہ ہونے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا-
ضلعی انتظامیہ کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے، جس کے بعد متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے-
راولپنڈی کے نالہ لئی کے اطراف آبادیاں سیلابی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور مقامی انتظامیہ شہریوںکے ممکنہ انخلا کے لیے متحرک ہے۔
حکام کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 28 فٹ تک پہنچی اور صبح سات بجے تک اس میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح 23 فٹ ریکارڈ کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کٹاریاں میں پانی کی سطح انخلا کے مقررہ 20 فٹ سے آٹھ فٹ زیادہ بلند ہو چکی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے بیسن میں مجموعی طور پر 126.35 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
شمس آباد میں 197 ملی میٹر اور نیو کٹاریاں میں 184 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ اس کے علاوہ گولڑہ میں 157 ملی میٹر، پی ایم ڈی ایچ ایٹ میں 151 ملی میٹر، سیدپور میں 98 ملی میٹر، پیرودھائی میں 86 ملی میٹر جبکہ بوکڑا اور کچہری میں 72، 72 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
انتظامیہ نے شہریوں کو نالہ لئی اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔