’جرمنی کا سب سے خطرناک آدمی‘ انتخابی نتائج میں سب سے آگے
جب تقریباً ایک دہائی قبل الرِش سیگمنڈ (Ulrich Siegmund) ’بزنس سائیکالوجی‘ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تو انہوں نے پیغام رسانی (messaging) کے حوالے سے ایک ایسا سبق سیکھا جو جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’اے ایف ڈی‘ (AfD) کا پہلا ایسا رکن بننے کی ان کی کوششوں میں بہت کارآمد ثابت ہوا ہے جو کسی ریاستی حکومت کی قیادت کر سکیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق مشرقی ریاست سیکسنی-انہالٹ (Saxony-Anhalt) سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ سیگمنڈ انتہائی دائیں بازو کی جماعت کا وہ خوش اخلاق اور خندہ پیشانی والا چہرہ رہے ہیں جو انتخابی نتائج کے سروے کے مطابق اس وقت مقبولیت میں تقریباً 41 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے۔
چھ ستمبر کو ڈالے گئے ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے کی بنیاد پر وہ ریاست کے اگلے پریمیئر بننے کی راہ پر ہیں-
سیگمنڈ، جنہوں نے ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل سیاسی جماعت ‘اے ایف ڈی’ (AfD) یعنی ‘متبادل برائے جرمنی’ (Alternative for Germany) میں شمولیت اختیار کی تھی، کا کہنا ہے کہ ان کے کاروباری کورس نے انہیں یہ سکھایا کہ صارفین کے بنیادی احساسات کو اپیل کرتے ہوئے کس طرح ایک مثبت ماحول یا کیفیت (mood) پیدا کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے پوڈ کاسٹ میزبان بین برنڈٹ (جنہیں کچھ لوگ جرمنی کا ‘جو روگن’ قرار دیتے ہیں) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘جہاں خوشگوار مہک ہو، وہاں اعداد و شمار کے مطابق لوگ زیادہ دیر تک رکتے ہیں اور مصنوعات کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں—چاہے وہ مصنوعات کچھ بھی ہوں۔’
انہوں نے ایک ایسی کمپنی قائم کی جو ایسے سسٹمز فروخت کرتی ہے جو صارفین کے لیے—دکانوں سے لے کر بزرگوں کے مراکز تک—ذہن و مزاج کو خوشگوار بنانے والی خوشبوئیں فضا میں بکھیرتے ہیں؛ اور ووٹرز تک اپنی پارٹی کا پیغام پہنچانے کے معاملے میں بھی انہوں نے اسی مثبت ماحول کو پیدا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
ملک کے مشہور ہفتہ وار نیوز میگزین دیر سپیگل نے سیگمنڈ کو ‘جرمنی کا سب سے خطرناک آدمی’ قرار دیا ہے کہ وہ ایک پارٹی میں دوستانہ چہرہ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جرمنی کی ڈومیسٹک انٹیلی جنس ایجنسی کے سیکسنی-انہالٹ دفتر نے اُن کی انتہا پسند انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اور جرمنی کے بنیادی جمہوری نظام کے مخالف کے طور پر درجہ بندی کی۔
مہینوں سے انتخابی مہم پر
سلم لائن سوٹ میں سجیلے انداز میں سجی ہوئی داڑھی اور فیشن ایبل بال کٹوانے والے سیگمنڈ مہینوں سے انتخابی مہم کے لیے نکلے ہیں، شہروں اور گاؤں کے ہالوں میں ووٹروں کو راغب کرتے رہے ہیں اور اپنے لاکھوں سوشل میڈیا پیروکاروں کو مسلسل اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔
وہ مرکزی دھارے کے صحافیوں کے ساتھ میڈیا میں پیش ہونے میں کم نرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن اُن کے قابل رسائی انداز اور عوام کے ساتھ اُن کے آسان رابطے نے ووٹروں کو سیگمنڈ کی انتخابی ریلیوں میں جوق در جوق لایا-
سیگمنڈ کو پارٹی کی ایک مقامی تنظیم کی حمایت حاصل ہے جس نے AfD کی دیگر شاخوں میں نظر آنے والی تلخ اندرونی تقسیم کا حصہ بننے سے گریز کیا۔