سینٹ انتخابات پر الیکشن کمشن کے آپشنز
الیکشن کمیشن سینیٹ انتخابات ملتوی کرنے کا سوچتا رہا
پارٹی سربراہی کیلئے اہلیت پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات کے بارے میں حکم نامہ جاری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حکمنامے میں جہاں ن لیگ کو سینیٹ الیکشن سے باہر کرتے ہوئے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے وہیں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کمیشن سینیٹ انتخابات ملتوی کرنے کا سوچ رہا تھا۔
دستاویز کے مطابق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیلئے الیکشن کمیشن نے چار آپشنز پر غور کیا ۔ پہلا آپشن یہ تھا کہ سینیٹ کے انتخابات اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات موخر کر دیئے جائیں۔ دوسرا آپشن یہ تھا کہ ن لیگ کے امیدواروں کو باہر کر دیا جائے اور انتخابات کرا دیئے جائیں۔
تیسرا آپشن تھا کہ امیدواروں کو نئے پارٹی ٹکٹس جمع کرانے کیلئے وقت دے دیا جائے۔ چوتھا اور آخری آپشن یہ تھا کہ ن لیگ کے امیدواروں کو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کی اجازت دیتے ہوئے وقت پر سینیٹ انتخابات کرائے جائیں۔
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ نامزد کرنے والے کی نااہلی کی بنیاد پر امیدوار کو نا اہل نہیں کیا جاسکتا۔ یکساں مواقع فراہم کرنے کیلئے امیدواروں کو سینیٹ الیکشن سے باہر کرنا نا انصافی تھی۔ الیکشن کمیشن نے راجا ظفر الحق کی نئے پارٹی ٹکٹس اجرا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سینیٹ الیکشن کے پولنگ کے سوا تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں، ایسی صورتحال میں نئے ٹکٹس جمع کرانے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
(کمیشن کے حکم نامے کا ترجمہ صحافی عدیل وڑائچ نے کیا ہے )

