متفرق خبریں

گاڑی میں گائے کیسے چھپی؟

مارچ 3, 2018

گاڑی میں گائے کیسے چھپی؟

اسلام آباد کے بلیوایریا کو فیصل ایونیو سے ملانے ولی سڑک پر دو گاڑیاں ٹکرائیں اور حادثے کے نتیجے میں گاڑیوں کے بمپر آپس میں پھنس گئے ۔ ایک گاڑی کے مالک کے مطابق گاڑیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی ابتدائی کوشش ناکام ہوئی تو پچھلی گاڑی میں موجود تین افراد نے اچانک جوتے اور موبائل فون چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلی۔
موقع پر موجود افراد اور اگلی گاڑی کے مالک نے بھی اپنے دوست کے ساتھ خوفزدہ ہو کر جگہ سے ہٹنے کو ترجیح دی ۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ سمجھے کہ شاید پچھلی گاڑی میں کوئی بم یا خطرناک مواد ہے جس کی وجہ سے اس کے مسافر چھوڑ کربھاگے جا رہے ہیں ۔ لیکن کچھ دیر بعد جب لوگ واپس گاڑی کے قریب آئے تو اس میں پچھلی نشست پر گائے لیٹی ہوئی تھی ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ عجیب اور حیران کن منظر تھا کہ چھوٹی سی ویگنار گاڑی میں گائے کیسے گھس گئی؟ یا چھپائی گئی۔

پاکستان 24 کے پاس دستیاب ایف آئی آر جو تھانہ کوہسار میں درج کی گئی ، مقدمے کے مطابق گاڑی کے مالک راحیل ملک نے بتایا کہ پچھلی گاڑی کے مسافر جب بھاگ گئے تو پھر گاڑی کی تلاشی لینے پر اس میں سے فیضان رینٹ اے کار راولپنڈی کے کاغذات برآمد ہوئے جبکہ دوموبائل فون بھی ملے جو پولیس کے حوالے کیے گئے ۔ پولیس کے تفتیشی افسر نے پاکستان 24کے رابطہ کرنے پر کہاکہ ان کو ابھی ملزمان پکڑنے میں وقت لگے گا، جبکہ ایف آئی آر کے مطابق وقوعہ 23 فروری کو پیش آیا ہے ۔ پولیس کے تفتیشی افسر محمد ریاض دس دن میں ملزمان تک پہنچنے کی کوئی وجہ نہ بتاسکے جبکہ ملزمان کے موبائل فونز بھی ان کے پاس موجود ہیں۔

تفتیشی افسر محمد ریاض اب تک یہ بھی معلوم کرنے میں ناکام ہیں کہ گاڑی میں گائے کس کی ہے؟ اور رینٹ اے کار والے فیضان موٹرزنے کیا جواب دیا ہے ۔ پاکستان 24 کو معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے گائے سید پور میں رکھی ہوئی ہے ۔ پاکستان 24 نے فیضان موٹرز کے مالکان سے بھی رابطہ کیا مگر فون کالزپر ایک شخص دوسرے کو کار مالک بتاتا رہا۔
پاکستان 24 نے اگلی گاڑی کے مالک اور مدعی مقدمہ راحیل ملک سے رابطہ کیاتو ان کہناتھاکہ پچاس ہزار گاڑی کا نقصان ہواہے جو فیضان موٹرز سے لینا ہے مگر پولیس نے گزشتہ چھ دن سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ راحیل ملک کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری گئی ہے اور غلطی دوسری گاڑی کی ہے جو موقع پر آنے والے پولیس حکام کوبھی معلوم ہے مگر ابھی تک میرے نقصان کا ازالہ نہیں کیا جا سکا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے