جسٹس قاضی فائز کا مقدمہ
جسٹس دوست محمدخان کے ریٹائر منٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس منعقد نہ کیے جانے پر پشاور کے وکیل سپریم کورٹ کے ججوں سے ناراض ہوگئے تھے اور اس کا اظہار صوبے کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات میں کیا تھا ۔ جس کے بعد سپریم کورٹ کے رجسٹرار دفتر نے پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ کر معاملے کی وضاحت کر نے کی کوشش کی تھی ۔
ابھی وہ معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے تقرر کے خلاف دوسال قبل دائر کی گئی درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کرنے پر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے بعض وکلاء نے اپنی مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق بارہ مارچ کو چیف جسٹس نے اپنے چیمبر میں ان اعتراضات کے خلاف اپیل کی سماعت کی جو رجسٹرار کے دفتر نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے تقرر کو چیلنج کرنے والی درخواست پر عائد کیے تھے ۔
پاکستان ۲۴ کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے وکیل ریاض حنیف راہی کی دو برس قبل دائر کی گئی درخواست پر عائد اعتراضات ختم کرکے اس کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیا ۔ درخواست گزار کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی کو سنہ دوہزار نو میں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج اور بعد ازاں چیف جسٹس لگاتے وقت آئینی تقاضے پورے نہیں کئے گئے تھے ۔

