جیو کس نے بند کیا؟ چیف جسٹس
سپریم کورٹ نے میڈیا کمیشن کیس میں وفاقی حکومت سے پیمرا کو خود مختار اور آزاد ادارہ بنانے کی تجاویز طلب کی ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پیمرا خود مختار ادارہ نہیں ہے، بادی النظر میں حکومت کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی پر عمل نہیں ہوا، چینلز کی بندش کا نومبر میں اٹھایا گیا حکومتی اقدام دوبارہ بھی ہوسکتا ہے ۔
پاکستان ۲۴ کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے بتایا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد میڈیا کمیشن کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات اور تجاویز کو وسیع پیمانے پر دیکھنا پڑے گا، وفاق بھی چاہتا ہے کہ میڈیا آزاد ہو ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس قانون کا جائزہ لے سکتے ہیں جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اعلی ترین سطح پر معاملہ اٹھایا گیا، حکومتی اختیارات کی شق پیمرا اتھارٹی کے قانون میں موجود ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی بات سے لگتا ہے حکومت پیمرا کو آزاد نہیں کرنا چاہتی ہے، حکومت پیمرا کو آزاد کرنے کی یقین دہانی سے مکر رہی ہے ۔
رانا وقار نے کہا کہ حکومت میڈیا کی آزادی کی حامی ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ حکومت کیوں پیمرا اور میڈیا پر کنٹرول رکھنا چاہتی ہے؟ کیا حکومت کو اعتماد نہیں کہ آزاد ادارہ آرٹیکل 19 پر عمل یقینی بنا سکتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ادارے کی آزادی سربراہان کی تعیناتی سے شروع ہوتی ہے، عدلیہ میں بھی تعیناتیاں مکمل آزادی سے ہوتی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ پیمرا کو مضبوط اور خود مختار ادارہ بنایا جائے ۔
درخواست گزار حامد میر نے کہا کہ حکومت پیمرا آزاد کرنے کے موقف سے مکر گئی ہے، حکومت نے اختیارات استعمال کرتے ہوئے دھرنے کے دوران ٹی وی چیلنز بند کیے، پیمرا قانون کی شق 5 اور 6 کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا قانون کا مکمل جائزہ لینا ہوگا، قانون کا مکمل جائزہ لیے بغیر کسی شق کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے، ہو سکتا ہے معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوانا پڑے، پیمرا پر حکومت کا کنٹرول رہتا ہے تو اسے ختم کر دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا کے قیام کا مقصد اس کی آزادی سے ہی حاصل ہو گا، پیمرا کو حکومتی اثر سے آزاد کرنے پر حکومت کا کیا موقف ہے ۔
پاکستان ۲۴ کے مطابق درخواست گزار حامد میر نے تجویز دی کہ پیمرا کے آرٹیکل 5 اور 6 کو ختم کردیے جائیں تو بہتری آ سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عمارت کی دو منزلیں گرانے سے کیا عمارت قائم رہ سکتی ہے؟ میڈیا کمیشن کی طرف سے پیمرا کو مضبوط کرنے کیلئے تجاویز کا جائزہ لے لیتے ہیں، جب تک پیمرا مضبوط نہیں ہوگا اس وقت تک مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے، اگر پیمرا نے حکومت کے کنٹرول میں رہنا ہے تو پھر پیمرا کو ختم کر دیں، پھر پیمرا کو وزارت اطلاعات کے ماتحت کر دیتے ہیں ۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میڈیا کمیشن کی تجاویز کا موجودہ قانون کے تحت اطلاق نہیں ہوسکتا، قانون بنانے والوں کو اس معاملے میں شامل کرنا پڑے گا، یہ اختیارات کی تقسیم کا معاملہ ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا نے جائزہ لینا ہے کیا آرٹیکل 19 کا نفاذ ہو رہا ہے یا نہیں؟ ہم نے پیمرا قانون کی شق 5 اور 6 کو آرٹیکل 19 کے تناظر میں دیکھنا ہے، چینلز بند کرنے کے اختیار کو دیکھا جائے تو یہ سخت اور ظالمانہ ہے ۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 23 مارچ کو فون بند کرنے کا انتظامہ حکم جاری کی گیا، اس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، حالت جنگ میں وفاق کو انتظامی حکمنامہ جاری کرنے کا اختیار ہونا چاہیے، عدالت پیمرا قانون کے تحت حکومت کے چینلز بند کرنے کے اختیار کا جائزہ لے سکتی ہے اور اس کی تشریح کر سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ہم کریں آپ خود نہیں کرنا چاہتے ۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت کرنا چاہتی ہے تو کر سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کیوں کرنا چاہتے ہیں، ہم تو قانون کے مطابق دیکھتے ہیں ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق حامد میر نے کہا کہ 25 نومبر2017 کو انتظامی حکمنامے کے ذریعے تمام ٹی وی چینلز بند کر دئیے گئے، پیمرا کے پاس اختیار نہیں، یہ صرف بند کرا سکتے ہیں، کھولنے کا وقت آئے تو وزارت اطلاعات کے ذریعے صوبوں کے چیف سیکرٹری کو لکھتے ہیں جیسا کہ جیو نیوز کی بندش پر کیا جا رہا ہے ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ پیمرا کو اختیار دینا چاہیے، اس میں ممبرز کا تقرر کرکے مکمل کیا جائے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پیمرا کیلئے کابینہ کی بجائے وزیراعظم، صدرکو نام بھجواتا ہے، بتایا جائے کہ اگر ہمیں گائیڈ لائنز دینا پڑیں تو کیا ہوں گی؟ ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق سرکاری وکیل رانا وقار نے کہا کہ تقرر کیلئے اہلیت اور شفافیت کو دیکھا جائے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم ان دونوں شقوں کو آئین کے خلاف قرار دیں تو کیا کریں گے؟ وکیل نے کہا کہ پھر اختیار حکومت کے پاس چلا جائے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معذرت کے ساتھ، ابھی تک آپ نے جو کچھ کہا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا، چینلز بند کرنے کے قانون میں کوئی جواز،کوئی معقول وجہ ہونا چاہیے جو سمجھ آئے، پیمرا قانون کی شقیں پانچ اور چھ آئین کے آرٹیکل 19 سے متصادم ہیں ۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے کہا کہ استدعا ہے کہ اس پر دوبارہ مشاورت کیلئے مہلت دی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مہلت نہیں دے سکتے، اس کیس کو مکمل کرنا چاہتے ہیں ۔ دو ایشوز ہیں، ایک یہ کہ پیمرا آزاد ہو، دوسرا یہ کہ حکومت کا اختیار اس کی طاقت کو ختم نہ کر سکے ۔
حامد میر نے کہا کہ جیو بند ہے، عدالت اس پر بھی ان کو حکم دے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا جیو بند ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ بہت پرانا مسئلہ ہے، کیبل آپریٹرز نہیں دکھاتے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے بتائیں کنہوں نے بند کرایا ہے؟ ۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ پیمرا نے کھولنے کیلئے کہا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا نے بھی کہہ دیا تو پھر ہم کیا کریں؟ حامد میر نے کہا کہ ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ کس نے بند کرایا ۔
پاکستان ۲۴ کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر قانون نے حق دیا ہے تو اللہ کے سوا کوئی بند نہیں کر سکتا، اس زمین پر کوئی نہیں ۔ مگر ہمیں سیاق و سباق کا پتہ ہونا چاہیے، اس کیلئے الگ سے درخواست دیں اس کیس میں نہیں سن سکتے ۔ اگر ایک خاص نمبر یا پہلے نمبر پر دکھانا آپ کا حق ہے تو وہ بھی بتائیں، اس پر بھی مطمئن کریں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر کیبل آپریٹرز نہیں دکھا رہے تو قانون کے مطابق پیمرا سے رجوع کریں، وہ آپریٹرز کو بلائیں گے آپ کو بھی سن لیں گے ۔
سیکرٹری اطلاعات احمد نواز نے عدالت کو بتایا کہ نومبر میں چینلز کو بند کرنے کی وجہ ان کی جانب سے پیمرا کی ہدایات پر عمل نہ کرنا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ایک بار ہو گیا تو یہ راستہ بند ہونا چاہیے، دوبارہ نہیں ہونا چاہیے ۔
۔۔۔ خبر اپ ڈیٹ کی جا رہی ہے
ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے، حامد میر
ہم ایسے متفرق درخواست نہیں سنیں گے، چیف جسٹس
اب وہ زمانہ گزرگیا جب مقدمے میں چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے تھے، چیف جسٹس
پہلے ایک مقدمے میں سے کئی مقدمات نکل آتے تھے، چیف جسٹس
ہماری درخواست 2012 کی ہے، وکیل جیو نیوز
2012 میں پتہ نہیں کیا حالات تھے، چیف جسٹس
الگ سے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت درخواست دائر کریں، چیف جسٹس
اتوار کوبھی سماعت کرنا پڑی تو کریں گے مسئلے کا حل چاہیے، چیف جسٹس
چئیرمین پیمرا کی تعیناتی آزادانہ ہونی چاہیے، چیف جسٹس
پیمرا کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، چیف جسٹس
حکومتی تلوار پیمرا کے سر پر نہیں لٹکنی چاہیے، چیف جسٹس
تمام شراکت دار بیٹھ کر معاملے کا حل نکالنے کیلئے تجاویز دیں، چیف جسٹس

