عدالت میں سرکاری اشتہارات کیس
سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے تین ماہ میں 89 کروڑ روپے کے سرکاری اشتہارات اخبارات اور ٹی وی چینلز کو جاری کیے ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ جیو ٹی وی کو حکومت کا ساتھ دینے پر اشتہار زیادہ ملتے ہوں گے، تنقید کرنے والوں کو اشتہار کم ملتے ہوں گے، ازخود نوٹس ہے اس لیے اس تفصیل میں نہیں جائیں گے ۔
پاکستان ۲۴ کے مطابق سرکاری اشتہارات ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی ۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل عاصمہ حامد سے استفسار کیا کہ عاصمہ صاحبہ 55 لاکھ روپے کا کیا بنا؟ آپ نے شہاز شریف کا چیک تو مجھے دکھایا تھا ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ اپنا جواب جمع کروا رہی ہوں، اخبارات میں سرکاری اشتہارات پر تصاویر لگانے کا سلسلہ 1947 سے جاری ہے ۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا ذاتی تشہر کیلئے سرکاری فنڈز استعمال ہو سکتے ہیں؟ کیا 1947 سے ہونے والی غلطیوں کو درست مان لیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی سرکاری اشتہار پر سیاسی شخصیات کی تصاویر نہیں ہونا چاہئیں ۔ سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ حکومت براہ راست کسی میڈیا گروپ کو اشتہار نہیں دیتی ۔ انہوں نے بتایا کہ تین ماہ میں 89 کروڑ روپے کے اشتہارات وفاقی حکومت نے جاری کیے، قومی دنوں پر بھی اشتہار جاری کیے جاتے ہیں، کئی وزارتیں اپنے جاری منصوبوں کے اشتہارات چلاتی ہیں، گزشتہ 3 ماہ میں کوئی تصویر والا اشتہار جاری نہیں کیا گیا ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ازخود نوٹس کا معاملہ الیکشن میں سرکاری پیسے سے انتخابی مہم کو روکنا ہے، چاہتے ہیں تمام امیدواروں کو الیکشن میں یکساں مواقع ملیں، کس کو کتنے اشتہار دینے ہیں یہ ہمارا کام نہیں، اشتہاروں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ حکومت اشتہار دے کر ادائیگیاں بھی نہیں کر رہی ۔ خبریں گروپ کے مالک ضیاء شاہد نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کرپشن کیس میں سندھ کے وزیر جیل میں ہیں، ان کے علاوہ تین اشتہاری ایجنسیوں کے سربراہ بھی کرپشن پر جیل میں ہیں ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ
وزیراعظم افتتاح کرے تو اس کا اشتہار بھی سرکاری پیسے سے نہیں ہوگا ۔ ڈان گروپ کے مالک حمید ہارون نے چیف جسٹس مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ثاقب، جس پر جسٹس عمر عطا نے ان سے کہا کہ آپ عدالت کو مخاطب کریں ۔ حمید ہارون نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اشتہارات پر سیاسی شخصیات کی تصاویر نہ ہونے کی حد تک عدالت کے حکم سے متفق ہیں
چیف جسٹس نے کہا کہ تمام صوبوں کو میڈیا کے اشتہارات کے پیسے ادا کرنے کا حکم دیں گے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ وزیراعلی نے الیکشن مہم سے پہلے ذاتی تشہیر پر کتنا پیسہ خرچ کیا؟ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ قانون کا اطلاق اس کے بننے کے وقت سے شروع ہوتا ہے، ہم نے شخصیات پر تنقید کی بجائے نظام درست کرنا ہے، عوام کا پیسہ ذاتی تشہیر پر خرچ نہیں ہونا چاہیے _
چیف جسٹس نے کہا کہ عاصمہ حامد وزیراعلی پنجاب کا بڑھ چڑھ کر دفاع کر رہی ہیں، ہو سکتا ہے عاصمہ حامد 55 لاکھ اپنی جیب سے ادا کردیں _ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہمارا کام کسی کو خوفزدہ یا تضحیک کرنا نہیں _
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ممکن ہے انتخابات سے قبل ترقیاتی فنڈز پر پابندی لگادیں، قوم کا پیسہ ووٹ مانگنے کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، حکومت کو اشتہارات جاری کرنے سے نہیں روک رہے، ٹیکس کے پیسے پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دیں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹینڈر اور بھرتیوں کے اشتہارات بھی ہوتے ہیں،
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے حمید ہارون نے کہا کہ عدالت مناسب پابندیاں لگائے تو حمایت کریں گے، ضیاء شاہد نے کہا کہ سی پی این ای بھی عدالتی احکامات کی مکمل حمایت کرے گی،
چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری پیسے پر انتخابی مہم چلانے کا حل نکال رہے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اشتہار ميں توانائی بحران کے خاتمے پر مبارک باد دی گئی، جسٹس اعجاز نے کہا کہ اشتہار ميں صدر، وزیراعظم اور مفتی اسمعیل کی تصاویر ہیں،
تصاویر کے ساتھ اشتہار دینا مناسب نہیں، چیف جسٹس
سرکار اپنی کارکردگی سے عوام کو ضرور آگاہ کرے، چیف جسٹس
اشتہارات پر اپنی تصاویر نہیں لگانی چاہیں، چیف جسٹس
ذاتی تشہیر کیلئے 3 ماہ میں ایک ارب روپیہ خرچ کیا گیا، جسٹس عمر عطاء بندیال
عدالت کو 3 ماہ سے زائد کی تفصیلات طلب کرنا چاہیے تھی، جسٹس عمر
گزشتہ ایک سال کے اشتہارات کی تفصیلات فراہم کریں، جسٹس عمر
اربوں کے اشتہار کون اور کیوں جاری کر رہا ہے؟ جسٹس عمر عطاء بندیال
الیکشن کے قریب اشتہار پری پول دھاندلی ہوتے ہیں، جسٹس عمر
9 سرکاری اشتہار پر تصاویر موجود تھیں، نئیر رضوی
3 ماہ میں حکومت نے 90 کروڑ کے اشتہار جاری کردئیے؟ چیف جسٹس
اشتہارات پر تصویریں کن لوگوں کی ہیں؟ چیف جسٹس
ایک اشتہار لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا بھی ہے، چیف جسٹس
کیا ملک میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ہے، چیف جسٹس
لوڈشیڈنگ میں کچھ کمی آئی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

