وکیلوں کے خلاف مقدمہ مگر پولیس خوفزدہ
اسلام آباد کی مثالی پولیس وکیلوں کے خلاف مقدمے درج کر رہی ہے مگر تھانے سے دس میٹر کے فاصلے پر قبضے کرنے والے وکیلوں کے خلاف کارروائی کرنے سے خوفزدہ ہے ۔ برسوں سے اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ کے مرکز میں کچہری کے ساتھ پارکنگ اور سرکاری زمین پر قبضہ کر کے بیٹھے وکیلوں کے سامنے وفاقی دارالحکومت کی ماتحت عدلیہ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی بے بس نظر آتے ہیں ۔
گزشتہ ہفتے رات کی تاریکی میں درجن بھر وکیلوں کے فٹ پاتھ اور پارکنگ میں بنائے گئے غیر قانونی چیمبرز گرانے کے بعد کالے کوٹ میں ملبوس افراد نے عدالتوں کو تالے لگا کر ججوں کو بھی مبحوس کر لیا تھا ۔ وکیلوں نے عدالتوں سے ہڑتال کر رکھی ہے اور سائلین فیس دینے کے باوجود خوار ہو رہے ہیں ۔
دوسری جانب اسلام آباد کے تھانے مارگلہ کی پولیس نے گرائے جانے والے چیمبرز دوبارہ تعمیر کر کے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والے وکیلوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے مگر کارروائی کرنے سے قاصر سے ہے ۔ مقدمے میں چودہ وکیلوں کو نامزد کیا گیا ہے ۔ وکیلوں میں راجا حسن، سردار مرتضی، راجا اویس، عمران علی گردیزی، راجا منیب، چودھری عمیر، ارسلان سندھو، فاروق اعظم، ہارون، اکمل درانی، امداد اللہ، افراز، منصور چٹھہ، اور فہد اللہ شام ہیں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تھانہ مارگلہ اور وکیلوں کے غیر قانونی قبضے والے چیمبرز کے درمیان دس بارہ میٹر کا فاصلہ ہے ۔ وکیلوں نے قریب ہی واقع فٹبال گراؤنڈ پر بھی قبضہ کر کے چیمبرز تعمیر کئے تھے ۔ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے باوجود تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔

