محسن داوڑ اور علی وزیر بلوچستان میں
پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم کے رہنما ابراہیم ارمان لونی کی نماز جنازہ بلوچستان کے علاقے لور الائی میں ادا کر دی گئی ہے جس میں شرکت کرنے کے لیے ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر صوبائی حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کے باوجود بلوچستان میں داخل ہو گئے تھے تاہم انتظامیہ نے انھیں ژوب اور قلعہ سیف اللہ کے درمیان روک لیا ۔
بعد ازاں مقامی لوگوں کی مدد سے مشکل پہاڑی راستوں سے پی ٹی ایم کے رہنما قلعہ سیف اللہ کے اس مقام پر پہنچے جہاں ارمان لونی کا جنازہ ادا کیا جا رہا تھا ۔ جنازے میں منظور پشتین نے بھی شرکت کی ۔
بلوچستان انتظامیہ نے محسن داوڑ، علی وزیر اور ان کے ساتھیوں پر صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے داخلے پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کر دی تھی تاہم وہ اپنے قافلے کے ساتھ صوبے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
انتظامیہ کے اعلامیے کے مطابق ژوب ڈیویژن میں پندرہ روز تک کسی بھی قسم کے آتشی مواد اور اسلحہ کی نمائش اور استعمال، جلسے جلوس، دھرنوں اور چار یا چار سے زیادہ اشخاص کے اجتماع پر بھی پابندی نافذ کر گئی ہے ۔
یہ پابندیاں گزشتہ روز ژوب ڈیویژن کے علاقے لورالائی میں پشتون تحفظ موومنٹ کی کور کمیٹی کے رکن ابراہیم ارمان لونی کی موت کے بعد لگائی گئی ہیں ۔ محسن داوڑ نے ٹوئٹر پرلکھا ہے کہ ہمارے راستے میں جگہ جگہ ڈمپر اور ٹرک کھڑے کئے گئے ہیں معلوم نہیں یہ کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے ۔

