پاکستان

خواتین کو ہراساں کرنے کا قانون مؤثر بنایا جائے

فروری 14, 2019

خواتین کو ہراساں کرنے کا قانون مؤثر بنایا جائے

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دفاتر میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف شکایات درج کرانے کا طریقہ کار آسان بنانے کی ضرورت ہے ۔ عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ اس قانون کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے ۔

سابق وفاقی محتسب برائے ہراسگی خواتین یاسمین عباسی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے جج کو توہین عدالت نوٹس بھیجنے پر اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ازخود نوٹس لیا تھا ۔

ازخود نوٹس کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قانون کی تشریح پر جواب طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرل بین الاقوامی قوانین سے عدالت کو آگاہ کر کے قانونی مدد فراہم کریں ۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے، صوبوں کو سننا بہت ضروری ہے، اگر خواتین کو ہراساں ہونے سے نہیں بچا سکتے تو ہمیں شرم آنی چاہیے ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ قوانین ایسے بنائے جائیں کہ خواتین شکایات کا اندراج کرا سکیں ۔

وفاقی خاتون محتسب کشمالہ طارق نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں شکایات صفر ہیں ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لوگ اس معاملے میں بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں ۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ اگر شکایت نہیں آتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے خواتین کو شکایات درج کرنے کیلئے اعتماد نہیں دیا، اس قانون کو اس طرح بنانا ہے کہ خواتین شکایات درج کرا سکیں ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ قانون میں ترامیم کی جا سکتی ہیں ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ترمیم کرنی ہے تو اس قانون کو زیادہ مضبوط بنائیں، سرگوشیاں سنتے ہیں کہ خواتین ہراسگی قانون کو کمزور کیا جائے گا ۔

پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ حکومت پنجاب اس قانون کو کمزور نہیں کرے گی ۔

عدالت نے وفاق سمیت چاروں صوبوں سے خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق شکایات اور ان پر فیصلوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ۔

سابق وفاقی خاتون محتسب یاسمین عباسی نے لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس منصور علی شاہ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے جس پر سابق چیف جسٹس انور ظہیر نے ازخود نوٹس لیا تھا ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے