مزدوروں کے قتل پر احتجاج
عظمت گل/ نمائندہ خصوصی پشاور
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے تین مزدوروں کے قتل کے خلاف پشاوراور باجوڑ خار بازار میں احتجاج کیا گیا ہے ۔
لاڑکانہ میں بدھ کی صبح اتمان زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے تین مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے اس وقت قتل کر دیا تھا جب وہ رکشہ میں سوارکام پر جا رہے تھے ۔
جمعرات کومزدوروں کے قتل کے خلاف ان کے آبائی ضلع باجوڑ کے مرکزی مقام خارشہر میں تاجروں نے دکانیں بند کرکے ریلی نکالی ۔ مقامی صحافیوں کے مطابق باجوڑ یوتھ جرگہ کے زیراہتمام نکالی گئی ریلی میں سیاسی جماعتوں کے ضلعی قائدین نے شرکت کی ۔
مقررین نے مزدوروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے سندھ حکومت سے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ ریلی سے عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں کے علاوہ تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے خطاب میں کہا کہ’ قتل کیے گئے مزدور برسوں سے لاڑکانہ میں مقیم تھے، بے ضرر اور بے گناہ افراد کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے سزا دی جائے۔ ‘
دوسری جانب سندھ کے وزیراعلی مراد علی شاہ نے مزدوروں کے قتل میں ملوث عناصر کی گرفتاری کا حکم دیا ہے ۔ انہوں نے لاڑکانہ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کریں ۔
ٹنڈو باگو میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘میں کسی کو صوبے کا امن اور بھائی چارے کی فضا تباہ نہیں کرنے دوں گا۔’
مزدوروں کی نعشیں پشاور پہنچنے پر لواحقین ایمبولینس کو پریس کلب کے باہر لے گئے اور تابوت سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا ۔ مظاہرین نے سندھ حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی ۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ۔ بعد ازاں مزدوروں کی نعشیں ان کے آبائی علاقے باجوڑ روانہ کر دی گئیں ۔

