اجلاس میں نواز شریف اور اسرائیل کا ذکر
پاکستان کے ایوان بالا سینٹ میں حکومت نے اسرائیل کو پاکستان کا نمبر ون دشمن قرار دیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں علاج کی مکمل سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے سینٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل سے روابط اور اسے تسلیم کرنے والوں کے عوام پرخچے اڑا دیں گے اور ہم اسے دریا برد کر دیں گے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی سہولیات فراہم نہ کرنے پراپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا تو پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لر نواز شریف کو علاج کی مکمل سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین صادق سنجرانی نے کی ۔ ن لیگ کے سینٹر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ نواز شریف کو علاج کی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں ۔ راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو علاج کی سہولیات فراہم نہ کرنا انسانی قدروں کے خلاف ہے۔
وزیر پارلیمانی امور علی محمد نے کہا کہ نواز شریف تین بار وزیراعظم رہے اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ نواز شریف کو بہترین علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں، ایوان جیسے چاہے ہدایت کرے، کمیٹی کہیں تو بنائیں گے ۔
راجہ ظفرالحق کی تقریر کے دوران اعظم سواتی کی کھُسر پھُسر پر راجہ ظفرالحق نے ان کو ڈانٹ دیا اور کہا کہ سواتی صاحب آپ بہت ڈسٹرب کرتے ہیں، آپ کی پیٹھ ہمیشہ چئیرمین کی طرف ہوتی ہے، آپ بچے تو نہیں ہیں نا؟۔
راجہ ظفر الحق کے ڈانٹنے پر اعظم سواتی خاموش ہوگئے۔ سینیٹر مشتاق کے سوال پر وزیر پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا کہ اسرائیل پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے۔اسرائیل کو تسلیم کرنا یا روابط کرنا کوئی حکومت ایسا نہیں کر سکتی۔ کوئی ایسا کرے گا تو اس کو دریائے سندھ میں بُرد کر دیں گے ۔ اگر ایسی کوئی بات ہوگی تو بائیس کروڑ عوام اس کے پرخچے اڑا دے گی ۔ ویزہ دینے یا نہ دینے کا جواب وزیر خارجہ دیں گے۔
چیئرمین سینیٹ کا اٹارنی جنرل کو خط لکھ کر وضاحت طلب کرنے کی ہدایت کی۔اٹارنی جنرل نے پی آئ اے کے 65 ملازمین کا معاملہ نہ سننے کا خط لکھا۔رضا ربانی،شیری رحمان اور دیگر اراکین نے نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ اٹارنی جنرل کو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ قائمہ کمیٹی کو ڈکٹیٹ کریں۔
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا تھا کہ حکومت پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، سوال یہ نہیں کہ ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ درست ہے یا نہیں. سوال یہ ہے کہ اٹارنی جنرل قائمہ کمیٹی کو خط لکھ سکتا ہے یا نہیں میں نے وضاحت کر دی کہ حکومت آئین کی بالادستی مانتی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کو بلا کر ان سے وضاحت طلب کی جا سکتی ہے.اٹارنی جنرل کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں۔
پی آئی اے کے خسارے سے متعلق ایوان کو بتایا گیا کہ قومی ائیرلائن کو یومیہ 10 کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے.پی آئی اے کے قرضوں پر ماہانہ 2ارب روپے تک سود بڑھ رہا ہے، ایوی ایشن ڈویژن نے بتایا کہ پی آئی اے کے بڑے اخراجات میں ایندھن اورجہازوں کی مرمت شامل ہے،جہازوں کی لیزنگ لاگت بھی مجموعی اخراجات میں شامل ہوتی ہے، گزشتہ دس سال میں 5 ائیرلائنز کو لائسنس جاری کئے گئے۔
سینیٹر بہرہ مند تنگی پی آئی اے میں ناراض ریفرشمنٹ کی بات کی توچئیرمین نے کئا کہ سینیٹر صاحب کو جہاز میں شاید برگر نہیں ملا ۔علی محمد خان یقینی بنائیں کہ سینٹر صاحب کو آئندہ برگر ضرور ملے۔علی محمد خان نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ان کا گلہ ضرور دور کرینگے، مجھے فلائٹ تفصیلات بتائیں جس میں انہیں ناقص کھانا دیا گیا ایکشن لیا جائے گا۔
وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایا کہ اسلام آبادائیرپورٹ کا نام قائداعظم انٹرنیشنل ائیرپورٹ رکھنےکی تجویز کابینہ کودی ہے.
ان کا کہنا تھا کہ قومی ائیر لائن میں ریفریشمنٹ ختم نہیں کر سکتے۔حکومتی سینیٹر نعمان وزیر نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آبادانٹرنیشنل ائیر پورٹ پر جہاز کی سیڑھی گرنے کی انکوائری مکمل کر لی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیڑھی میں بہت زیادہ تکنیکی غلطیاں تھیں.کمپنی نے مینوفیکچرنگ فالٹ تسلیم کر لیا ہے. ڈیلٹا کمپنی نئی سیڑھی بغیر قیمت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایوان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی پابندیوں کے خلاف قرارداد متفقہ منظور کی ۔ قرارداد سینٹر سراج الحق نے پیش کی۔ سینیٹ اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

