پاکستان

کیا واقعی آج ماں بہن ایک ہو گئیں؟

مارچ 8, 2019

کیا واقعی آج ماں بہن ایک ہو گئیں؟

عفت حسن رضوی

آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کو منانے کے لیے پاکستان کے تین بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں خواتین نے عورت مارچ کے عنوان سے ریلیاں نکالیں، مگر ریلیوں میں خواتین کے حقوق و مطالبات اور عورت مارچ کے فلسفہ سے زیادہ لوگوں کی دلچسپی کا سامان وہ پوسٹرز رہے جن پر مختصر نعرے درج تھے۔ سوشل میڈیا پر دن بھر خواتین کو وومن ڈے کے تہنیتی پیغامات بھیجے گئے اور شام سے عورت مارچ کے پوسٹرز زیر بحث ہیں۔


سوشل میڈیا پر بعض مردوں کی جانب سے ایک پوسٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپنا موزہ خود ڈھونڈو۔ صحافی وسیم عباسی نے پوسٹر کا جواب ٹوئٹر پر دیتے ہوئے لکھا کہ” بتادینے سے قیامت نہیں آجائے گی، تم بھی تو اپنا چارجر بھول جاتی ہو”۔

بعض پوسٹرز میں مردوں کو براہ راست “کچن میں چھریاں” موجود ہونے کی دھمکی دی گئی، جبکہ کچھ پوسٹرز میں مردوں کو ان کے اعضائے مخصوصہ کا طعنہ بھی دیا گیا۔ معروف مصنف ندیم فاروق پراچہ نے ان پلے کارڈز کو “زبردست” کہا۔

صحافی جویریہ صدیق نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ پوسٹرز فیمینزم نہیں مذاق ہیں، حق مانگنا ہے تو ترجیحات درست کرو۔

عورت مارچ میں شریک ایک لڑکی نے ٹانگیں کھول کر بیٹھنے کا ذکر کیا جبکہ ایک خاتون نے ذومعنی گالی کو آج کے عورت مارچ کی اجتماعیت قرار دیتے ہوئے پوسٹر لکھا “آج واقعی ماں بہن ایک ہوگئی”

صحافی نادیہ فاروق نے سوال اٹھایا کہ ایسے پوسٹرز ہماری اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔ جبکہ انصار عباسی نے ٹوئٹر پر کہا کہ “عورتوں کے حقوق کے نام پر گھروں کو اجاڑنے کی مہم چلائی جارہی ہے”۔

عورت مارچ کے ان قدرے بے باک نعروں اور پوسٹرز سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے، مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی سوال اٹھا رہی ہیں کہ ایسے نعروں کے آگے خواتین حقوق کی اصل آواز دب جاتی ہے جب پیغام کا مثبت اثر ہونے کے بجائے اسے مذاق بنالیا جاتا ہے۔ جب کہ عورت مارچ میں شریک خواتین کا ماننا ہے کہ ایسی باتیں سرعام کرنے کا مقصد سماجی دائرے میں خواتین کی موجودگی کا احساس اور آزادی اظہار رائے ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے