پاکستان

سپریم کورٹ ریسرچ سنٹر بنائے گی

اپریل 30, 2019

سپریم کورٹ ریسرچ سنٹر بنائے گی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے 17 ججوں نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ اعلی ترین عدالت میں ریسرچ سنٹر قائم کیا جائے گا تاکہ قانون پر بہتر معاونت مل سکے ۔

منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لئے کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں عدالت عظمی کے خصوصی بینچز کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔

جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس اجلاس میں سپریم کورٹ میں ریسرچ سینٹر کے قیام کابھی فیصلہ کیا گیا۔ ”ریسرچ سنٹر کے قیام سے عدالت کو وسیع بنیاد پر تحقیق کے ذریعے معیاری قانونی معاونت حاصل ہو سکے گی۔“

سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق یکم جنوری 2019 سے چھبیس اپریل تک سپریم کورٹ میں 7213 مقدمات داخل ہوئے، جبکہ اس دوران سپریم کورٹ نے 6169 مقدمات نمٹائے ۔

سپریم کورٹ میں اس وقت کل 39338 مقدمات زیر التوا ہیں۔

اجلاس نے مقدمات کے فیصلوں کی شرح پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس میں انصاف کی فراہمی، مقدمات کے فیصلے اور عدالتی فرائض کی انجام دہی اور دیگر ایشوز پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس میں مؤثر اور آسان انصاف فراہمی کے مختلف ذرائع پر بھی غور کیا گیا۔ مقدمات کے فیصلوں کے لئے بہتر کاوش کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں دیگر انتظامی اور عدالتی امور بھی زیر بحث آئے۔


چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں نئے تعینات ہونے والے جج جسٹس قاضی محمد امین کو خوش آمدید کہا۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی محمد امین ادارے کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے