پاکستان24 متفرق خبریں

شہر کے آدھے ’صحافی‘ تھانے میں بند

مئی 1, 2019

شہر کے آدھے ’صحافی‘ تھانے میں بند

ماجد جرال / صحافی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی کے ایک ’سرکاری پریس کلب‘ پر مبینہ قبضے کے الزام میں شہر کے آدھے صحافیوں کو پولیس نے حراست میں لے کر حوالات میں بند کر دیا ہے ۔

وہاڑی کی تحصیل بورے والا کے تھانہ ماڈل ٹاؤن میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق ’بوریوالہ پریس کلب‘ کے صدر ندیم مشتاق نے قبضے، دھمکیوں اور قیمتی سامان زبردستی لے جانے پر 28 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی ۔

ایف آئی آر میں شاہد شہزاد، علاوالدین، فاروق، محمد اشرف، محمد یاسین، ڈاکٹر امجد حسین، شفیق عاشر، شہباز حاکم، محمد یونس، کاشف حسین، ندیم اقبال، محمد طالب، محمد سمیع، محمد اجمل، غلام فرید، ملک نعیم جاوید، محمد شاہد، ڈاکٹر عبدالغفار، محمد وسیم، ملک سلیم، محمد ریاض اور معراج سمیت 22 افراد کو نامزد کیا جبکہ چھ افراد نامعلوم لکھے گئے ۔

پیر کو شام ساڑھے پانچ بجے درج کیے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد نے ڈنڈوں سے مسلح ہو کر پریس کلب پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک لاکھ روپے سے زائد کا قیمتی سامان ساتھ لے گئے یا اسے نقصان پہنچایا ۔

ٹی وی چینل 92 نیوز سے وابستہ رپورٹرعمران ڈوگر کے مطابق یہ جھوٹا مقدمہ ہے اور شہر کے اس ’سرکاری پریس کلب‘ پر صرف چند افراد کا دہائیوں سے قبضہ ہے جن کی تعداد 16 کے لگ بھگ ہے ۔

عمران ڈوگر کا کہنا ہے کہ جن پر مقدمہ درج کیا گیا وہ پریس کلب پر قبضہ کرنے نہیں بلکہ ممبر شپ لینے گئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ ’ان میں سے 19 صحافیوں کو رات گئے پولیس نے گرفتار کر کے شہر کے مختلف تھانوں میں منتقل کیا ۔‘

بوریوالہ کے ڈپٹی کمشنر عرفان علی کاٹھیا کے مطابق پریس کلب کی زمین سرکار کی ملکیت ہے اور یہ ’سٹیٹ لینڈ‘ 22 برس قبل مقامی انتظامیہ نے لیز پر صحافیوں کے حوالے کی ۔ ’یہ زمین کسی بھی غیر صحافتی مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔‘

پاکستان ٹوئنٹی فور سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ معاملہ حل کرنے کے لیے کمیٹی بنائی ہے اور جمعرات کو اس کے سامنے دونوں فریق پیش ہو کر اپنا مؤقف دیں گے ۔

پریس کلب کے صدر ندیم مشتاق کے مطابق کلب کے لیے زمین 30 سال قبل ملی ۔ ’یہ ایک کنال دس مرلے کا پلاٹ ہے اور فرد مقبوضگی کے ساتھ ہمارے نام ہے اس لیے ’مقبوضہ پریس کلب‘ بھی کہلاتا ہے ۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرڈ پریس کلب کے آئین کے مطابق رکنیت صرف اخبار والوں کو مل سکتی ہے ۔ ’آج کل تو ٹی وی چینلز کی وجہ سے ہر طرف صحافی ہیں۔ سوشل میڈیا والے بھی صحافی بن کر ممبرشپ لینا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ صرف مستند قومی اخبارات سے وابستہ صحافی دو سال کے لیے ایسوسی ایٹ ممبر بنائے جاتے ہیں جن کو بعد ازاں کونسل ممبر کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ’ممبران کی تعداد 20 ہے جو ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں اور ان میں سے صرف دو ہی مقامی اخبارات سے وابستہ ہیں۔‘

بورے والا پریس کلب کے سابق صدر مہر اعجاز نے الزام لگایا کہ جن پر مقدمہ درج کیا ان میں سے زیادہ تر افراد دیگر کام کرتے ہیں ۔ ’ہم نے پہلے بھی ایسے لوگوں کو رکنیت دینے سے انکار کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔‘

ادھر نائنٹی ٹو نیوز سے وابستہ صحافی عمران ڈوگر کے مطابق پریس کلب کے 20 ارکان میں سے دو افراد کسی بھی صحافتی ادارے سے وابستہ نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھ پر کوئی مقدمہ نہیں مگر جس طریقے سے اجارہ داری قائم کی گئی ہے اور صرف چند افراد سرکاری پریس کلب پر قابض ہیں یہ درست نہیں ۔‘ عمران ڈوگر نے کہا کہ صحافیوں کو ایک رات تھانے میں رکھ کر سولہ گھنٹے بعد رہا کیا گیا ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے