پاکستان24 متفرق خبریں

پھوپھی کو شادی سے نکالنے کے لیے پولیس طلب

مئی 1, 2019

پھوپھی کو شادی سے نکالنے کے لیے پولیس طلب

یاسر حکیم / صحافی

پاکستان میں پولیس کی ہنگامی مدد سروس ریسکیو 15 پر غیر ضروری ٹیلی فون کالز کی شکایت بہت پرانی ہے مگر پہلی بار اس سروس کے ذریعے شادی سے بن بلائے مہمان کو باہر نکالنے کے لیے مدد طلب کی گئی ہے ۔

صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں منگل کی رات آٹھ بجے کے لگ بھگ پولیس کی ہنگامی مددگار سروس پر کال موصول ہوئی کہ تھانہ وارث خان کے علاقے میں ظفرالحق روڈ پر پولیس فورس بھیجی جائے ۔

موقع پر پہنچنے والے پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد شعیب نے پاکستان ٹوئنٹی فور کو بتایا کہ وہ کسی اہم مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے جہاں ان کو تھانے سے تین بار کال کر کے ایمرجنسی کے بارے میں بتایا گیا ۔

محمد شعیب کا کہنا تھا کہ جس علاقے سے شکایت آئی وہ تھانے کے قریب ہی واقع ہے مگر مری روڈ پر ٹریفک ہجوم اور گاڑیوں کے مڑنے کی جگہ دور ہونے کی وجہ سے کچھ دیر ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران تین کالز کی گئیں کہ پولیس جلدی پہنچے ۔

اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے بتایا کہ موقع پر پہنچ کر مدد طلب کرنے والے شخص کو فون کیا تو وہ 22 برس کا نوجوان تھا جن کے گھر میں شادی تھی اور وہاں ان کی پھوپھی بغیر بلائے آ گئی تھیں ۔

پولیس اہلکار کے مطابق وہ مدد کرنے سے قاصر تھے کیونکہ ان کے ساتھ خاتون اہلکار نہیں تھی جبکہ لڑکے کے والد بزرگ ہونے کی وجہ سے گھر سے باہر نہیں آ سکتے تھے ۔

محمد شعیب کا کہنا تھا کہ ”ہم کسی بڑے سے بات کرنا چاہتے تھے مگر لڑکا بضد تھا کہ پھوپھی کو بہن کی شادی کی تقریب سے نکالیں۔“

پولیس اہلکار کے مطابق وہ مدد کرنا چاہتے تھے مگر یہ کہہ کر واپس آ گئے کہ خاتون پولیس اہلکار کو لے کر آئیں گے ۔

راولپنڈی کی سپروائزری ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او) آمنہ بیگ نے اس واقعہ کے بارے میں سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ بھی کی ہے ۔

انہوں نے پاکستان ٹوئنٹی فور کو بتایا کہ پولیس کا کام لوگوں کی مدد کرنا ہے ۔ ”ہم مدد طلب کرنے والے ہر شہری کی کال کو سنجیدہ لیتے ہیں اور فوری مدد کرتے ہیں۔ اس کال پر بھی پولیس نے مدد کرنے کی اپنی کوشش کی ۔“

آمنہ بیگ کا ٹویٹ

آمنہ بیگ کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ذاتی اور گھریلو مسائل پر بھی پولیس سے مدد طلب کی جاتی ہے مگر ڈیڑھ 200 کالز میں سے 50-60 میں واقعی ایمرجنسی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کاکام رسپانس اور مثبت ردعمل دینا ہے اور اس کال پر بھی یہی کیا گیا ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کی جانب سے مدد طلب کرنے والے لڑکے سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر جواب موصول نہ ہو سکا ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے