پاکستان24

اپوزیشن کے احتجاج میں بجٹ پیش

جون 11, 2019

اپوزیشن کے احتجاج میں بجٹ پیش

پاکستان میں وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے 3137 ارب خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ اس دوران اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے احتجاج اور نعرے بازی کی۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں بینزز آویزاں کیے گئے جن پر آئی ایم ایف بجٹ نامنظور کے نعرے درج تھے۔

وفاقی بجٹ میں دفاعی امور کے لئے 11 کھرب 53 ارب مقرر روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیے اپوزیشن ارکان نے نعرے لگائے کہ گلی گلی میں شور ہے، علیمہ باجی چور ہے۔

ایوان میں مسلسل گو نیازی گو کے نعروں کے شور میں وزیر مملکت حماد اظہر کی بجٹ تقریر جاری رہی۔ اس دوران اپوزیشن ارکان نے بجٹ دستاویز پھاڑیں۔

وفاقی بجٹ میں ایک سے 15 سکیل کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین حاصل کرنے کے لیے 20 ارب کی تجویز ہے۔

گریڈ 17 سے 20 کی تنخواہوں میں پانچ فیصد اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ گریڈ 20 سے 22 کے افسروان کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پی ایس ڈی پی کے لئے 951 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ پانچ ہزار پانچ سو پچاس ارب کے ٹیکس محصوالات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ تخمینہ میں 30 ہزار ارب روپے اضافہ ہوگا۔ صوبوں کو 32 سو ارب روپے دیئے جائیں گے۔ وفاق کابجٹ خسارہ 3060 ارب روپے ہوگا جبکہ جموعی خسارہ 3137 ارب روپے ہوگا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے