پاکستان24

کیا میں ڈاکٹر یا جج ہوں؟ وزیراعظم

اکتوبر 24, 2019

کیا میں ڈاکٹر یا جج ہوں؟ وزیراعظم

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو ان پر ذمہ داری کیسے عائد کی جا سکتی ہے؟ کیا وہ ڈاکٹر یا جج ہیں؟ 

اسلام آباد ٹی وی اینکروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل  الرحمان کے احتجاج کا ایک مخصوص ایجنڈہ ہے۔ 

انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتی میڈیا دیکھیں جو مولانا فضل الرحمان کے دھرنے پر خوشیاں منا رہا ہے، بھارت پہلے مولانا حضرات کے خلاف تھا لیکن آج ان کے دھرنے پر خوش ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مولانا کے انٹرویو اور خبر چلانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مولانا ہر سیاسی جماعت کو الگ الگ ایجنڈا بتاتے ہیں، حکومتی کمیٹی اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کرے گی تاکہ ان کا ایجنڈا جان سکیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کو باہر سے سپورٹ حاصل ہے، اِس دھرنے کا وقت بہت اہم ہے، دھرنے کی وجہ سے کشمیر کے ایشو سے ساری توجہ ہٹ چکی ہے، فی الحال مولانا فضل الرحمان کی یہ خواہش ہے کہ مائنس وزیراعظم ہوجائے اور ان  کی یہ خواہش اس لیے ہے کہ وزیراعظم کرپشن کےخاتمے کے پیچھے ہے‘۔

عمران خان نے کہا کہ وہ مولانا کے بارے میں ڈیزل کا لفظ بولتے رہیں گے اور ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کمیٹیاں بھی تشکیل دیتے رہیں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں جنگ ہو لیکن پاکستان کی کوشش ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کرائی جائے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے