متفرق خبریں

پیمرا پابندی: ’اینکرز اور وزیر جاگ گئے‘

اکتوبر 28, 2019

پیمرا پابندی: ’اینکرز اور وزیر جاگ گئے‘

پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز پر نشر کیے جانے والے مواد کو ریگولیٹ کرنے والی الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے جیسے ہی چینلز پر ہونے والے تبصروں اور تجزیوں کے حوالے سے ایک ہدایت نامہ جاری کیا پروگرام اینکروں اور وفاقی وزیروں میں ’آزادی اظہار رائے‘ کے چیمپیئن بننے کا مقابلہ سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر شروع ہو گیا۔

اتوار کو رات جاری کیے گئے ہدایت نامے میں نیوز چینلز کو عدالت میں زیر سماعت مقدمات پر تبصروں سے اجتناب کے لیے کہا گیا ہے۔

اینکر حامد میر نے اس فیصلے پر ٹوئٹری تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میری اطلاع کے مطابق ٹی وی اینکرز پر دوسرے اینکرز کے پروگراموں میں رائے دینے پر پابندی کا فیصلہ وزیراعظم کا نہیں کسی اور کا ہے تاہم وزیراعظم کو وضاحت کرنا ہو گی لیکن اصل ذمہ داری تو چئیرمین پیمرا پر ہی آئے گی کیونکہ قانون کے مطابق پیمرا ایک خودمختار ادارہ کہلاتا ہے۔‘

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے پیمرا کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا ان کو دفاعی امور پر بات کرنے کے لیے عالمی امور میں ڈگری کی ضرورت ہے؟

پیمرا کی جانب سے جاری کیے گئے ہدایت نامے کے مطابق ٹاک شوز میں عدلیہ اور ریاستی ادراوں کے خلاف یکطرفہ تجزیے اور پروپیگنڈے کی صورت میں متعلقہ ادارہ ذمہ دار ہو گا۔

طویل ہدایت نامے میں پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ٹاک شوز کے لیے بلائے جانے والے مہمانوں کے انتخاب میں احتیاط برتنے اور ٹی وی اینکرز کو غیر جانبداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے کی ہدایات بھی دی ہیں۔

تاہم وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات کہتی ہیں کہ پیمرا نے کوئی نئی ہدایت جاری نہیں کیں بلکہ یہ پرانا ضابطہ اخلاق ہے جس کی وقتا فوقتا یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔

اینکر محمد مالک نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان روزانہ ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں دفاعی امور سے لے کر تعلیم اور صحت تک ہر موضوع پر بولتی ہیں۔ کیا وہ بھی ہمیں بتائیں کہ تبصروں کے لیے ماہر بننے کی کوالیفیکیشن کیا ہے؟

اینکر منیزے جہانگیر نے لکھا ہے کہ پیمرا کو اپنا کام کرنا چاہیے اور صحافیوں کو سکھانے کے بجائے خود میں بہتری لانا چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے