پاکستان24

توہین عدالت: فردوس عاشق کی پھر معافی

نومبر 5, 2019

توہین عدالت: فردوس عاشق کی پھر معافی

توہین عدالت کیس میں وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں غیر مشروط اور تحریری معافی مانگی ہے۔

فردوس عاشق نے پریس کانفرنس میں عدالت پر نواز شریف کی ضمانت کی درخواست فوری طور پر سننے کی وجہ سے تنقید کی تھی۔

عدالت سے زبانی غیر مشروط معافی قبول نہ کرتے ہوئے انہیں پیر تک تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔


چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ میرے بارے میں کچھ بھی کہیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا،
بارکے سینئر عہدیدار نیاز اللہ نیازی کی درخواست پر دھرنے میں گرفتار افراد کی درخواستیں اتوار کو سنی گئیں اور اس عدالت نے دھرنے کے دوران گرفتاریوں سے روک دیا تھا۔
فردوس عاشق نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ میں نے دھرنے کے بعد پی ٹی آئی جوائن کی تھی۔


جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے صرف قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے، عدالت نے کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کرنی ہوتی، ہر جج نے اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلف اٹھا رکھا ہے، سنگین جرم یا دہشت گردی کے ملزم کو بھی فیئر ٹرائل کا حق ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے ایک بار پھر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی عدالت نے انہیں تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔


چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالتوں کو پریشرائز کرنے کے لیے وزرا نےکہا کہ ڈیل ہو گئی ہے، اس پر فردوس عاشق نے کہا کہ 20 سالہ کیریئر میں کبھی عدلیہ سے متعلق بات نہیں کی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ہدایت کی کہ ہفتے تک تحریری جواب داخل کرا دیں پھر پیر کو سماعت رکھ لیتے ہیں۔


فردوس عاشق اعوان کے وکیل نے آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنا کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔


چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ حاضری سے استثنا نہیں دے رہے، ان کے یہاں آنے کا اور بھی فائدہ ہے۔


بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے پیر تک ملتوی کردی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے