’پھر سسٹم لپیٹ دیا جائے گا‘
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے قائد کے گھر کے باہر لندن میں ہونے والے مظاہرے کا جواب دے سکتے ہیں مگر پھر سسٹم لپیٹ دیا جائے گا۔
پیر کی شام قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے لیے حکومت سے رابطہ قائم نہ کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں حکومت سے رابطے برقرار نہیں رکھے جاسکتے، جو کانٹے بکھیر رہے ہیں، ان کو ہی چننا پڑیں گے۔ ’حکمرانوں کی بصارت ہے نہ سماعت، حکومت اس تکلیف دہ صورتحال کو کہاں تک لے کر جائے گی؟‘
خواجہ آصف نے کہا کہ کہ ان کے قائد کے گھر پر حملہ ہوسکتا ہے تو سب کے گھروں پر ہوسکتا ہے۔
’ہم دشمنی بڑھانا نہیں چاہتے تاہم اب ہم الیکشن کمیشن کے معاملات اور آنے والی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ نوازشریف کے گھر کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کی تو ہم ویسا ہی جواب دیں گے، حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا پتہ ہے، آخری حد تک ان کا پیچھا کریں گے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے رہائش گاہ پر حملے کرنے کی کوشش کی تھی۔ ’ہمیں جنگ کاپیغام دیا جا رہا ہے، ہم اس کے لیے تیار ہیں، لیکن پھرسسٹم لپیٹا جائے گا۔‘
لیگی رہنما نے کہا کہ ’ہم ایسے رویے رکھنے والوں کے چہرے نہیں بھولیں گے، گھروں کا تقدس پامال نہ کیاجائے، ایسے رویوں سے تشدد کی لہر شروع ہوگی۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف حکومت کی اجازت سے نہیں بلکہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں لندن گئے ہیں۔ ’جنہوں نے احتجاج کیا، وقت آنے پر سب کے نام بتاؤں گا۔ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا، یہ خطرناک روایت ہے۔ یہ سلسلہ شروع ہو گیا تو بند نہیں ہوگا۔‘
’ہماری سیاسی روایات میں ایسی چیزیں شامل نہیں، یہ چیزیں چار سے پانچ سال میں سیاست میں متعارف کرائی گئیں۔ ہم اپنے ورکرز کو کسی کے گھر کے باہر مظاہرے کی ہدایت نہیں دیں گے۔‘

