پاکستان24

فوری انصاف، 15 منٹ میں 15 مقدمات نمٹا دیے

دسمبر 12, 2019

فوری انصاف، 15 منٹ میں 15 مقدمات نمٹا دیے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو 15 منٹ کے دورانیے میں 15 مقدمات سنے اور تین رکنی بینچ کے ججز اٹھ کر اپنے چیمبرز میں چلے گئے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بینچ کی سربراہی کی اور کہا کہ جون 2019 میں دائر کی گئی فوجداری پٹیشن دسمبر 2019 میں سن رہے ہیں۔ ”جون میں کیس آیا اور دسمبر میں فیصلہ ہو گیا، اللہ کا شکر ہے۔“

جمعرات کی صبح معمول کے مطابق ساڑھے نو بجے چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بینچ نے کمرہ عدالت ایک میں مقدمے کی سماعت شروع کی۔

پہلا مقدمہ توہین عدالت کی درخواست تھی جس کے بعد 14 جیل پٹیشن سنی گئیں جو قیدیوں نے سزاؤں کے خلاف دائر کی تھیں۔

جیل پٹیشنز میں سرکار کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب پیش ہوئے۔ عدالت کو پنجاب سائنس فرانزک لیبارٹری کی رپورٹس میں خامیوں کا بتایا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان تمام قیدیوں کے مقدمات میں ایک ہی پوزیشن ہے۔ ”ڈیفیکٹیو رپورٹ کی وجہ سے کتنے لوگ بری ہو گئے، آئندہ یہ غلطی نہیں ہونی چاہیے۔“

انہوں نے کہا کہ پنجاب سائنس فرانزک لیبارٹری کے بارے میں ایک ہی رپورٹ ہے 2019 کے شروع تک یہی حالت تھی، اب کہتے ہیں کہ ٹھیک ہو گئی ہے۔

عدالتی عملے نے آخری کیس کی آواز لگائی کہ محمد عامر ورسز دی سٹیٹ (محمد عامر بنام سرکار)۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہا کہ اس مقدمے میں بھی وہی صورتحال ہے۔ چیف جسٹس نے جواب میں کہا کہ ”سیم آرڈر“۔ پٹیشن منظور کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ یہ تو جون 2019 کی پٹیشن ہے۔ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ جی، مگر لیبارٹری کی رپورٹ پرانی ہے۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا کہ جون میں کیس آیا، دسمبر میں فیصلہ ہو گیا، اللہ کا شکر ہے۔

ان کے ساتھ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سردار طارق مسعود بھی اپنی نشستوں سے اٹھ کر پس منظر میں کھلتے دروازے کے پار چلے گئے۔

عدالتی عملے اور پولیس سکیورٹی اہلکاروں نے گھڑی پر نظر دوڑائی تو نو بج کر 45 منٹ تھے۔ عدالت میں چار سائلین اور وکیلوں کے تین منشی بیٹھے تھے۔ کسی نے کہا کہ فوری اور تیز ترین انصاف، 15 منٹ میں 15 مقدمات کے فیصلے ہو گئے۔

واضح رہے کہ چند دن قبل چیف جسٹس آصف کھوسہ کی جانب سے متعارف کرائی ماڈل کورٹس نے لاہور میں ایک دن ایک ہزار مقدمات کے فیصلے کرنے کا بیان جاری کیا تھا جس کی بعد ازاں انکوائری کرائی گئی اور تین ججز کو ماڈل کورٹس سے ہٹایا گیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے