پاکستان

2019 میں سندھ اسمبلی کا انوکھا اجلاس

جنوری 2, 2020

2019 میں سندھ اسمبلی کا انوکھا اجلاس

رپورٹ: عبدالجبار ناصر

سال 2019 مکمل ہوا مگر سندھ اسمبلی کے لئے یہ سال کئی حوالوں سے مشکل، صبر آزما اور منفرد ثابت ہوا۔ سال کے 365 میں سے 173 دن تک صرف تین سیشن کے ساتھ جاری رہنے والے اجلاسوں میں63دن اجلاس کے بغیر شمار ہوئے اور چھ دن صرف چند منٹ ہی اجلاس جاری رہا یا شروع ہوتے ہی بغیر کسی کارروائی کے ملتوی ہوا۔

قیام پاکستان کی قرار داد منظور کرنے والی اسمبلی سندھ کے سب سے بڑے منتخب جمہوری ایوان کے اسپیکر تقریباً 10 ماہ جیل میں رہے اور ایک قیدی کی حیثیت سے پروڈکشن کے ذریعے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور صدارت کی جبکہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر چیمبر کو سب جیل کا درجہ بھی دیا گیا، یہ اسمبلی کی تاریخ کا افسوناک واقعہ ہے، اسمبلی کے دیگر تین ارکان بھی گرفتار رہے۔

قانون سازی میں بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ اسمبلی حسب معمول سب سے آگے رہی اور احتجاج بھی روان برس سب سے زیادہ ہوا، اخراجات میں بھی ریکارڈ بن گیا ہے۔ اجلاس اوسطاً ڈھائی گھنٹے روزانہ اور مجموعی طوپر 275 گھنٹے اجلاس جاری رہا۔ یہ ریکارڈ بھی رواں برس ہی قائ ہواکہ سندھ اسمبلی ایک اجلاس بغیر کسی وقفے مسلسل سوا10 گھنٹے تک دو دن جاری رہا ۔

سال 2019ء میں سندھ اسمبلی کے پہلے سیشن کا پہلا اجلاس 9جنوری سے 18 مئی تک جاری رہا اور اجلاس کے69 دن شمار ہوئے جن میں 20 دن چھٹی بھی شامل ہیں اور یہ سیشن سندھ اسمبلی کی تاریخ کا طویل ترین سیشن رہا۔اسی دوران 19 فروری کو قیام پاکستان کی قرار داد سب سے پہلے پاس کرنے والی سندھ اسمبلی کے منتخب اسپیکر آغا سراج درانی کو نیب نے اسلام آبادکی ایک تقریب میں گرفتار کیا اورپاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی اسپیکر اسمبلی کی گرفتاری ہوئی ہے۔ آغا سراج درانی 12دسمبر تک تقریباً 10 ماہ تک قید رہے اور اس عرصے میں قیدی ہونے کے باوجود اسپیکر اور دو بار قائم مقام گورنر سندھ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے۔

سندھ اسمبلی کی مثالی تاریخ میں افسوناک عمل بھی اسی سال ہوا کہ اسپیکر کی قید کی وجہ سے اسمبلی میں ان کے چیمبر کو چنددن کے لئے سب جیل قراردیا گیا ،تاہم سخت تنقید کے بعد اسپیکر کے گھر کو سب جیل قرار دیکر ان کو وہاں منتقل کیاگیا۔2019ء میں دو حکومتی ارکان شرجیل انعام میمن، فریال تالپور اور اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم کے جاوید حنیف بھی اسیر رہے اور اسپیکر کے ساتھ یہ ارکان بھی پروڈکشن آرڈر پر اجلاسوں میں شریک ہوئے اور اب سب کی ضمانت ہوچکی ہے۔

رواں برس سندھ اسمبلی کا دوسرا سیشن 12 جون سے 2 دسمبر تک جاری رہا اور اجلاس 43 دن شمار ہوئے ،جن میں چھٹی کے 13 دن بھی شامل ہیں ۔ تیسرا سیشن 13ستمبر سے 20دسمبر تک جاری رہا اور اجلاس کے 61 دن شمار ہوئے جن میں چھٹی کے 30دن بھی شامل ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سال 2019ء میں سندھ اسمبلی نے ریکارڈ قانون سازی کی اور اپنی نوعیت کے منفرد قوانین بھی پاس کئے۔ایوان نے 125 سال بعد جیل اور قیدیوں سے متعلق نیا قانون پاس کیا ،ایشیا میں پہلی مرتبہ زراعت سے وابستہ خواتین کے حقوق کو تسلیم کرکے ایکٹ بنایاگیا،پاکستان میں پہلی مرتبہ سماعت سے محروم افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے لیے قانون سازی ہوئی،زخمیوں کے لازمی علاج،تولیدی صحت،عطیات وچندہ جمع کرنے والے خیراتی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کا قانون بنا گٹکا مین پوری کی تیاری فروخت،استعمال کے خلاف قانون بنایاگیاجبکہ طلبہ کو یونین سازی کے حق کے لیے بھی مسودہ پیش ہوا۔

اسمبلی کے ذرائع کے دعوے کے مطابق اجلاسوں پر تقریباً 52سے 53 کروڑ روپے خرچ ہوئے ۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے کہ 110 دن اجلاس ہوئے مگر ایک دن بھی اجلاس مقررہ وقت پر شروع نہیں ہوا اور اوسطاً ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر ہوئی ، جبکہ اجلاس اوسطاً ڈھائی گھنٹے روانہ جاری رہا اورمجموعی طورپر 275 گھنٹے اجلاس جاری رہا۔ سندھ اسمبلی کی تاریخ میں یہ بھی ریکارڈ ہے کہ ایک اجلاس مسلسل دو دن جاری رہا ، 29 اپریل کو دوپہر 2 بجے شروع ہونے والا اجلاس بغیر کسی وقفے کے رات سوا 12 بجے (30اپریل)تک جاری رہا۔

ایوان میں چٹکلے، جھگڑے اور غیر ضروری بحث ماضی کی طرح سال بھر کارروائی کا لازمی حصہ بنی رہی جبکہ سب سے زیادہ پروڈکشن آرڈرز کا اجرا بھی سال گزشتہ میں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی سندھ اسمبلی کے ارکان کو نیب کیسز میں ضمانتیں ملیں سندھ اسمبلی کے طویل ترین اجلاس کو تلخ و شیریں یادوں کے ساتھ ملتوی کردیا گیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے