فوجی قانون میں ترمیم کے مخالف کون؟
پاکستان میں فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ یا فوج کے قانون میں ترمیم کے بل کی ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم بعض چھوٹی جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت کرنے میں سخت لب و لہجہ اپنایا ہے۔
بعض سیاسی جماعتوں نے پیر کو قانون سازی کے عمل میں حصہ نہ لینے جبکہ کچھ ارکان نے ترمیم کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے واضح طور پر آرمی ایکٹ میں ترمیم سے خود کو الگ کیا ہے جبکہ نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے سخت مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اسمبلی کو ایسا قانون منظور کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ن لیگ کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کرنے سے قبل اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔‘
پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ ارکان قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ نے بھی ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔

