لاہور کے تین ریسٹورنٹس کیوں بند ہوئے؟
لاہور ڈی ایچ اے فیز فائیو میں ان دنوں تین ریسٹیورنٹس بند ہوئے جن میں سے ایک کا نام وِرانڈا تھا، مڈل کلاس کے لئے بنایا گیا یہ ریسٹیورنٹ کانٹی نینٹل فوڈ کا مناسب قیمت میں ایک بہترین ریسٹیورنٹ تھا جس میں ایک ڈش کی اوسط قیمت ایک ہزار روپے فی ڈش تھی اور چار لوگوں کا ایک خاندان اس میں چار ہزار روپے میں کھانا کھا کر باہر آجایا کرتا تھا،چار ہزار روپے خرچ کرنا اس خاندان کے زیر دسترس ہوتا ہے جس کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے ماہانہ کے قریب ہوتی ہے۔
اب ہوا یہ کہ اس خاکی دور میں کھانے پر سترہ فیصد ٹیکس لگا، کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہوئیں اور اسی طرح اس خاندان کا ماہانہ گروسری کا خرچہ بیس ہزار روپے سے اٹھائیس ہزار ہوگیا اور بجلی کا بل بھی بارہ ہزار سے ایک دم انیس ہزار ہوگیا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس خاندان نے باہر کھانا کھانے کی عیاشی کو ترک کر دیا اور آہستہ آہستہ اس ریسٹیورینٹ کی گاہکی کم ہوتی گئی،انہوں نے نرخ اور منافع بڑھا کر اپنے اخراجات کم کرنے کی کوشش کی جس سے سیلز اور کم ہوگئیں اور بالاخر یہ ریسٹیورنٹ بند ہوگیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپر مڈل کلاس جس کی آمدنی ایک لاکھ سے سوا لاکھ روپے ماہانہ تھی تک یہ اثر پہنچنے سے پہلے لوئر مڈل کلاس جس کی آمدنی پچاس سے ساٹھ ہزار روپے ماہانہ ہے اپنی تمام بچتیں ختم کرچکی ہے تاکہ اپنی آمدنی کم ہونے اور اخراجات بڑھنے سے جو فرق پڑا ہے اس میں جو اسائشیں زندگی میں حاصل کر چکے ہیں ان سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں۔
اب آجائیں بیس سے تیس ہزار ماہانہ آمدنی کے لوگوں کے حالات کی طرف تو ان کا دُکھ ناقابل بیان ہے۔
حکومت وقت کو یقین ہے کہ انہیں نہ تو ووٹ سے لایا گیا ہے اور نہ ہی ووٹ دینے والے ان کا کچھ اکھاڑ سکتے ہیں۔
آپ اپنے سابقہ تمام چیف جسٹسوں اور آرمی چیفس کو دیکھیں کہ ان کو ریٹائرمنٹ پر اربوں روپے قانونی طریقے سے دیے گئے تاکہ انہیں کرپشن نہ کرنی پڑے لیکن ان میں سے ایک بھی پاکستان میں نہیں بستا،عمران خان کا پاکستان میں کوئی اسٹیک نہیں ہے،حفیظ شیخ اور باقر رضا نے آتے ہوئے ریٹرن ٹکٹ ہی خریدے تھے۔
کامران طفیل ۔ لاہور

