30 دن میں نہ نمٹائے گئے مقدمات کی تفصیل
سپریم کورٹ نے ملک بھر کی نیب احتساب عدالتوں میں تیس دنوں میں فیصلہ نہ ہونے والے مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں۔عدالت نے احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی نہ ہونے کا بھی نوٹس لے لیا۔عدالتی حکم میں کہا گیا سیکرٹری قانون تمام احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی یقینی بنائیں،درستگی کیلئے زیادہ وقت نہیں دینگے۔
جہانزیب عباسی
نیب کے مقدمات کا تیس سالوں میں فیصلہ نہیں ہوتا ،قومی احتساب بیورو کس طرح چلایا جارہا ہے؟یہ ریمارکس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سندھ لاکھڑا مائننگ کول پراجیکٹ ملزمان کی ضمانتوں پر اخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیئے۔
سپریم کورٹ نے نیب ریفرنسز کے فیصلوں میں تاخیر پر نیب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا نیب قانون کے مطابق ریفرنس کا 30 دن میں فیصلہ ہونا چاہیے،احتساب عدالتوں میں مقدمات سالوں پڑھے رہتے ہیں،نیب ریفرنس دائیر ہونےکے تیس دنوں میں فیصلہ نہ ہونے کی معقول وجوہات ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی نہ ہونے کا بھی نوٹس لے لیا۔عدالت نے قرار دیا احتساب عدالتوں میں جج تعینات نہ ہونے سے ملزمان متاثر ہوتے ہیں ،سیکرٹری قانون کو تمام احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی یقینی بنایا جائے،ججز کی تعیناتی کرکے احتساب عدالتوں کو فعال بنایا جائے۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کی۔عدالت نے استفسار کیا کہ اس کیس میں کیا پراگریس ہے۔وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے جواب دیا دو ہزار سولہ میں ریفرنس دائرہوا،احتساب عدالت کے جج نہ ہونے کے باعث ٹرائل نہیں ہو پارہا،فیصلہ بھی اسی وجہ سے نہیں ہوسکا۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ نیب کا ادارہ کس طرح چلایا جارہا ہے،آج ہی کہا کسٹم میں جانے والے مقدمات کے چھ ماہ میں تو فیصلے ہونگے،نیب کے مقدمات میں تو تیس سال میں فیصلہ نہیں ہوتا۔
نیب کے پراسیکیوٹر اصغر حیدر نے جواب دیا مقدمات میں تاخیر ملزمان کی جانب سے کی جاتی ہے۔چیف جسٹس بولے پراسیکیوٹر جنرل صاحب نیب اپنے مقدمات کو چلا کر ختم کرے،سپریم کورٹ اب معاملات درستگی کیلئے زیادہ وقت نہیں دے گی،ضرورت ہو تو نیب مقدمات کو روزانہ کی ںنیاد پر چلائے،نیب قانونی طور پر 30 دن میں فیصلہ کرنے کا پابند ہے ۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔

