پاکستان پاکستان24

جسٹس فائز کیس: حکومت کو مہلت ملے گی؟

فروری 22, 2020

جسٹس فائز کیس: حکومت کو مہلت ملے گی؟

پاکستان میں حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر دائر اپیلوں کی سماعت ملتوی کرنے اور سرکاری وکیل کی تیاری کے لیے عدالت عظمی میں درخواست دائر کی ہے جبکہ مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل نے اپنے بیان پر غیر مشروط معافی نامہ بھی جمع کرا دیا ہے۔


جمعے کو وفاقی حکومت نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست پر سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔


واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز کی آئینی درخواست پیر 24 فروری کو سماعت کے لیے مقرر ہے جو گزشتہ چھ ماہ سے دس ججز سن رہے ہیں۔


وفاقی حکومت کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت پیر کے دن نہ کی جائے اور تین ہفتوں کیلئے ملتوی کی جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ تین ہفتوں کے وقت میں نیا اٹارنی جنرل مقرر کیا جا سکے گا اور وہ مقدمے کی تیاری کر سکیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اس مقدمے کے آغاز میں حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ کیس جلدی سنا جائے اور جسٹس قاضی فائز کے وکیل کو ایک ہفتے کی مہلت نہ دی جائے۔

واضح رہے حکومت نے اٹارنی جنرل سے گزشتہ ہفتے عدلیہ پر گھناؤنا الزام لگانے کے سبب استعفیٰ لے لیا تھا۔ وفاقی حکومت عدلیہ پر لگائے گئے الزام سے خود کو بری الزمہ قرار دے چکی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے جب سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے عدلیہ پر گھناؤنا الزام لگایا اس وقت وزیر قانون فروغ نسیم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے لیکن انھوں نے انور منصور کو روکا اور نہ ہی مداخلت کی۔

یاد رہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور اب عدالت میں غیر مشروط معافی نامہ جمع کرا چکے ہیں ہیں۔ وہ غداری کیس میں پرویز مشرف کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔ سابق اٹارنی جنرل پہلے بھی عدلیہ پر الزامات عائد کر چکے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے