پاکستان میں سات ہلاک، ہزار متاثر
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ لاہور میں کورونا وائرس کا شکار مریض میو ہسپتال میں جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی تعداد سات ہو گئی۔
بیان کے مطابق کورونا وائرس کے مریض افراسیاب کی عمر 57سال اور شیخوپورہ کا رہائشی تھا۔ افراسیاب نے غیر ملکی سفر نہیں کیا، چند روز قبل آزاد کشمیر گیا تھا۔
ترجمان نے بتایا ہے کہ متوفی کو گزشتہ روز ہسپتال لایا گیا، ٹیسٹ کروانے پر کورونا کی تصدیق ہوئی۔ مرحوم سے پچھلے 14 روز میں ملنے والوں کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
پنجاب حکومت نے سکولوں کی چھٹیاں 30 مئی تک بڑھا دی ہیں۔
ادھر وفاقی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کورونا کے آٹھ سو 92 کنفرم کیسز ہیں جبکہ سات ہزار 736 مشتبہ کیسز ہیں۔
”کنفرم کیسز میں پچھلے چوبیس کھنٹوں میں نواسی جبکہ مشبہ میں ایک ہزار دو سو باسٹھ کا اضافہ ہوا۔“
منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے انہوں نے کورونا کیسز کے اعدادو شمار بتائے۔
’جموں و کشمیر میں ایک، بلوچستان 110، پنجاب 265، اسلام آباد 15، پختونخوا 38 اور سندھ میں تین 399 کیسز موجود ہیں۔“
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چھ مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں، جبکہ پانچ مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
انہوں نے کورونا کے مریضوں کی جنس کے لحاظ سے شرح بتاتے ہوئے کہا کہ مریضوں میں 37 فیصد خواتین اور باقی مرد ہیں۔
ایران سے آنے والے زائرین کو تفتان کے قرنطینہ سنٹر میں رکھا گیا اور پھر صوبوں کو بھجوایا گیا جہاں ان کے اپنے قرنطینہ سنٹرز ہیں اس وقت ان میں چار ہزار سات سو تراسی افراد موجود ہیں۔ ان میں سے کنفرم کیسز کی 78 فیصد ایران کی ٹریول ہسٹری موجود ہے۔

