پاکستان

کورونا کے مریض پر کیا گزری؟

مارچ 29, 2020

کورونا کے مریض پر کیا گزری؟

سید نعمان شاہ ۔ صحافی / مانسہرہ

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے کنگ عبداللہ ہسپتال سمیت سرکاری ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لیے ناکافی انتظامات کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

بالاکوٹ کے کرونا سے متاثرہ مریض کو 18 مارچ کو ایوب میڈیکل کمپلیکس میں داخل کیا گیا جہاں پہلا ٹیسٹ نیگیٹو آیا، چھ دن ایوب میڈیکل کمپلیکس میں گزارنے کے بعد دوسرا ٹیسٹ پازیٹو آیا مگر اس دوران مریض کو واپس بھیجا جا چکا تھا۔

اتوار کو بالاکوٹ کے 80 سالہ متاثرہ شخص کے بیٹے اور رشتہ داروں نے پریس کانفرنس کی اور انتظامیہ سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

متاثرہ شخص کے بیٹے عالمگیر اور نوازش خان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ 18 مارچ کو 80سالہ عبد الطیف کو روٹین کے چیک اپ کے لیے ایبٹ آباد لایا گیا جہاں پر انھیں کرونا کے شبے میں آئیسولیشن وارڈ میں داخل کر دیا گیا اور سیمپل اسلام آباد بھیج دیے گے۔

”24 مارچ تک رپورٹ نہ آنے پر ہمارے شور شرابے پر دوبارہ ٹیسٹ کے لیے سیمپلز لے کر پشاور لیبارٹری ارسال کر دیے گے اس دوران 26 مارچ کو ایوب میڈیکل ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ آپ کی رپورٹ کلیئر ہے آپ گھر چلیں جائیں۔“

انہوں نے بتایا کہ 26 مارچ کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور بعد ازاں سنیچر کو پشاور لیبارٹری کی رپورٹ انتظامیہ کو موصول ہوئی جس میں کرونا ٹیسٹ پازیٹو آگیا جس پر انتظامیہ ہمارے گھر پہنچ گئی اور ایک بار پھر گھر سے ہسپتال لے جانے پر اصرار کیا۔

”رات 8 بجے زبردستی ایمبولینس میں مانسہرہ کنگ عبد اللہ ٹیچنگ ہسپتال پہنچا دیا جہاں پر کچھ دیر بعد ہسپتال انتظامیہ نے ہمیں دوبارہ ایبٹ آباد ایوب میڈیکل کمپلیکس ریفر کر دیا۔ وہاں پر پہنچتے ہی ہمیں واپس مانسہرہ لے جانے کا کہا اور ایوب میڈیکل کمپلیکس میں داخل کرنے سے انکار کر دیا۔“

انہوں نے بتایا کہ مانسہرہ کنگ عبداللہ ہسپتال پہنچنے پر جہاں ہر 12 بیڈز کا آئسولیشن وارڈ موجود ہے متاثرہ شخص کو داخل کرنے کے بجائے بالاکوٹ میں قائم قرنطینہ ریفر کر دیا گیا تاہم مانسہرہ سے بالاکوٹ جاتے ہوئے گل ڈھیڑی کے مقام پر رات 3 بجے ایمبولینس کا ٹائر پنکچر ہو گیا سرکاری ایمبولینس میں اضافی ٹائر نہ ہونے پر 4 گھنٹے تک متاثرہ شخص کو ایمبولینس میں گزارنے کے بعد دوسری ایمبولینس کے زریعہ صبح 8 بجے حسہ سینٹر پہنچایا گیا جہاں پر نہ کوئی علاج معالجہ کی سہولیات ہے نہ انتظامات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مریض کو ایوب میڈیکل کمپلیکس سے وائرس لگا۔ اس سے پہلے کا ٹیسٹ بھی نیگٹو آیا۔

”ہم اعلی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس بات کا نوٹس لیا جائے کہ رات بھر 80 سالہ بیمار شخص کو کیوں ایمبولینس میں گھمایا جاتا رہا. اگر 12 گھنٹے بالاکوٹ سے مانسہرہ مانسہرہ سے ایبٹ آباد ایبٹ آباد سے مانسہرہ اور دوبارہ مانسہرہ سے بالاکوٹ لانے سے قبل انتطامات کا جائزہ کیوں نہ لیا گیا۔“

دوسری جانب ہسپتال زرائع کے مطابق کنگ عبد اللہ ٹیچنگ ہسپتال میں 12 بیڈز پر مشتمل آئیسولیشن وارڈ میں مریضوں کو داخل کرنے کے لیے ہسپتال کی جنرل اوپی ڈی بھی بند کر دی گئی تھی جبکہ اضافی عملے کو بھی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے اور جنرل وارڈز میں بھی مریضوں کی تعداد کم کر دی گئی تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے