پاکستان پاکستان24

’بتایا جائے ملک میں کتنے وینٹی لیٹرز ہیں‘

اپریل 1, 2020

’بتایا جائے ملک میں کتنے وینٹی لیٹرز ہیں‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن سے کرپشن کرنے والوں کا دھندہ بند ہو گیا ہے۔

بدھ کو عدالت عظمیٰ میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے ہائیکورٹس کے فیصلوں پر اپیلیں سنتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد اور سندھ ہائیکورٹس کے ملزمان کو رہا کرنے کے فیصلے قانون کے مطابق نہیں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹس کو خط لکھا تھا جس کے بعد آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے رپورٹس آئی ہیں، رہائی کے لیے دیے گئے احکامات میں شامل زیادہ تر قیدی انڈر ٹرائل ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے رپورٹ دیکھنے کے بعد کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ قانون کے مطابق نہیں ہے، اختیارات کا درست استعمال نہیں کیا گیا۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے بھی یہی کیا اور قیدیوں کی ضمانت پر ریائی کا حکم دے دیا، قانون پورے ملک کے لیے ایک ہے ہمیں ادھر قانون نافذ کرنا ہے۔

’کس قانون کے تحت انڈر ٹرائل قیدیوں کو بری کیا گیا، کیا قانون میں اس کی کوئی گنجائش ہے؟‘

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انڈر ٹرائل قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک عبوری حکمنامہ ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم نامے پر 829 میں سے 519 قیدی رہا ہو چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی کسی بادشاہ نے شاہی فرمان جاری کیا، ملک میں جو بھی کام کرنا ہے قانون کے مطابق کرنا ہوگا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی خود کو بادشاہ سمجھ کر حکم جاری کرے۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کس قانون کے تحت ملزمان اور مجرموں کو ایسے رہا کیا جا سکتا ہے۔ ’ملزمان کو پکڑنا پہلے ہی ملک میں مشکل کام ہے، جرائم پیشہ افراد کو کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کورونا کی ایمرجنسی میں مصروف ہے، ان حالات میں جرائم پیشہ افراد کو کیسے سڑکوں پر نکلنے دیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں ملزمان کی ضمانت ہوتے ہی ڈکیتیاں شروع ہو گئی ہیں، کراچی میں ڈیفنس کا علاقہ ڈاکوئوں کے کنٹرول میں ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق ڈیفنس میں رات کو تین بجے ڈاکو کرونا مریض کے نام پر آتے ہیں، کورونا مریض کی چیکنگ کے نام پر ڈاکو گھروں کا صفایا کر رہے ہیں، جب سے ہائی کورٹ سے ضمانت ہوئی ڈکیتیاں بڑھ رہی ہیں، زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلہ کرنا چاہیے، کرپشن کرنے والوں کا دھندا لاک ڈائون سے بند ہو گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ میں کرپشن کے ملزمان کو بھی رہا کر دیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ سندھ کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کرپشن کرنے والوں کو روز پیسہ کمانے کا چسکا لگا ہوتا ہے، کرپشن کی بھوک رزق کی بھوک سے زیادہ ہوتی ہے، کرپشن کرنے والے کو موقع نہیں ملے گا تو وہ دیگر جرائم ہی کرے گا،

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ جیلیں خالی کرنے سے کرونا وائرس ختم نہیں ہو جائے گا، قیدیوں کے تحفظ کیلئے قانون میں طریقہ کار موجود ہے، جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ قانون کہتا ہے متاثرہ قیدیوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے۔

اٹارنی جنرل نے پانچ رکنی لاجر بینچ کو بتایا کہ جیلوں میں وائرس پھیلا تو الزام سپریم کورٹ پر آئے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے، کسی الزام کی پرواہ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جرائم پیشہ لوگوں کو چھوڑنا بڑا خطرناک ہوسکتا ہے، رہا ہونے والے لوگ دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالیں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے استدعا کی کہ عدالت عظمیٰ اس معاملے پر اپنی گائیڈ لائن دے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ قیدیوں کی رہائی کی فہرستیں کس نے بنائیں؟ سب نے اپنے رشتہ داروں کو چھوڑا دیا ہوگا، یہ پک اینڈ چوس کیسے ہوا؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 26 مارچ کو قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا اور ایک دم فہرست بھی بن گئی، لگتا ہے یہ فہرست پہلے ہی بنا لی گئی تھی۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ رہا کیے گئے افراد معمولی جرائم میں ملوث تھے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے پوچھا کہ کیا نیب کے ملزمان بھی معمولی جرائم میں میں آتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے آئندہ جیل جانے والے نئے قیدیوں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازم قرار دے دیا اور ہدایت کی ہے کہ اگر کسی شخص میں کرونا کی علامات ہوں یا ٹیسٹ پازیٹو آئے تو اسے قرنطینہ میں رکھا جائے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کروناشوائرس کے گی لاؤ بارے رہورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ اب تک کیا اقدامات کیے گئے۔ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو فراہم کردہ حفاظتی لباس اور کٹس  کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ بتایا جائے کہ ہمارے پاس کل کتنے وینٹیلیٹر ہیں۔

وفاق اور صوبائی حکومتوں سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور حفاظتی انتظامات بارے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ بتایا جائے ہسپتال کرونا سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے ادویات اور بستروں کی دستیابی سے متعلق بھی رپورٹ طلب کر لی گئی۔

سپریم کورٹ نے پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی جیلوں میں قرنطینہ مراکز قائم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

قیدیوں کی رہائی کی قانونی حیثیت پر آئندہ سماعت پر بحث ہوگی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے