تعمیراتی شعبے میں سرمایہ لگانے والوں کو کھلی چھوٹ
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اگلے دو ہفتے میں ملک میں کیا ہو گا، اس لیے پوری طرح سے تیار رہنا ضروری ہے۔
”ایسا نہ ہونے پر ایک مہینے بعد حالات اتنے خراب ہو سکتے ہیں کہ کورونا ہو نہ ہو لیکن لوگ سڑکوں پر آ جائیں۔ اس لیے صورت حال کو متوازن رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔“
وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ گھروں کے کرائے اور نجی سکولوں کی فیسیں معاف کرنے کے حوالے سے بھی غور ہورہا ہے۔
انہوں نے تعمیراتی شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیتے ہوئے اس کے لیے بورڈ بنانے، ٹیکس میں رعایت دینے اور دیگر مراعات دینے کا بھی اعلان کیا۔
جمعے کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سال تعمیراتی شعبے میں جو بھی سرمایہ لگائے گا ان سے آمدن کے ذرائع کا نہیں پوچھا جائے گا۔
”تعمیراتی شعبے سے بہت سے لوگ جڑے ہیں، اس سے مزدور طبقے کو فائدہ ہوگا۔“
عمران خان نے مزید کہا کہ تعمیرات کے شعبے پر ٹیکس بھی فکس کیا جا رہا ہے۔ ‘ود ہولڈنگ ٹیکس صرف سیمنٹ اور سریے پر لاگو ہو گا جبکہ دوسرے تعمیراتی سامان پر ٹیکس معاف کر دیے گئے ہیں۔’

