پی اے ایف کالج میں طالب علم کی ہلاکت پر نوٹس
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی اے ایف کالج لوئر ٹوپہ میں طالب علم کی اچانک موت کی تحقیقات کے لیے بورڈ آف انکوائری تشکیل دینے کی درخواست پر سیکرٹری دفاع، سکول پرنسپل اور چیئرمین بورڈ آف گورنرز سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے محمد احمد خان ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے اپنے بیٹے احتشام اکبر کی اچانک موت پر متعلقہ حکام کو انکوائری کے لیے درخواستیں دیں مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ طالب علم کی وفات کی وجہ جانے کے لیے بورڈ آف انکوائری تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ اگر انکوائری پہلے سے کی جا چکی ہے تو اس کی مصدقہ نقل فراہم کی جائے۔ فریقین کو طالب علم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اس کے زیرِ استعمال اشیاء والدین کے حوالے کرنے کی ہدایات دی جائیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ 16اور 17جون 2019 کو بیٹے کی وفات سے قبل کالج میں سرگرمیوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کی جائے۔

