پاکستان

مدارس بھی مالی مشکلات کا شکار ہو گئے

اپریل 11, 2020

مدارس بھی مالی مشکلات کا شکار ہو گئے


رپورٹ: عبدالجبارناصر

کورونا کی وبا نے جہاں دیگر شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے وہیں مساجد اور مدارس کو بھی معاشی حوالے سے انتہائی سخت بحران میں مبتلا کیا ہے، مدارس کے سالانہ اخراجات کے 50 فیصد سے زائد حصے سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس کے اثرات اساتذہ اور طلباو طالبات پر پڑیں گے جبکہ علماء نے حکومت سے مساجد و مدارس کے یوٹلیٹی بل معاف اور عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کی ہے۔

مدارس سے وابستہ منتظمین کے مطابق رجب، شعبان اور رمضان میں مدارس کو زکوۃ، صدقات ، خیرات ، عطیات، فطرانہ، بیرون ملک پاکستانیوں کے تعاون اور دیگر مدات میں کل سالانہ اخراجات کی 60سے 70 فیصد آمدن ہوتی ہے، جس سے ملک بھر میں مختلف مکاتب فکر کے 40 ہزار سے زائد مدارس میں زیر تعلیم 45 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات کے اخراجات اور تقریباً 5 لاکھ سے زائد اساتذہ کی تنخواہوں اوردیگر اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔

رواں برس کورونا وبا کا مرض پاکستان میں رجب میں شروع ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ اس کے اثرات رمضان کے بعد شعبان تک جاری رہیں گے۔ اس ضمن میں مختلف چھوٹے بڑے کئی مدارس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں اس بات کی تصدیق کہ ہر سال رجب اور شعبان میں کل سالانہ اخراجات کی مذکورہ بالا مدات میں 30 سے 35 فیصد آمدنی ہوتی تھی اور باقی آمدنی رمضان المبارک میں ہوتی تھی ، اس طرح ان تین میں کل سالانہ اخراجات کی 60 سے 70 فیصد آمدنی ہوتی تھی ۔ رواں برس اب تک یہ سلسلہ مکمل روکا ہواہے۔

اسی طرح ملک بھر میں چھوٹی بڑی 3 لاکھ سے زائد مساجد کے ائمہ ، موذنین او ر خادمین کی تعداد بھی ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ سے زائد ہے اور بیشتر مساجد کے اخراجات چندے یا مخیر افراد کے عطیات سے پورے کئے جاتے ہیں ، کورونا وبا سے مساجد کے اخراجات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے ، تاہم لاک ڈائون کے خاتمے اور مساجد میں جمعہ کے اجتماعات کے بعد مساجد کے حوالے سے بہتری آسکتی ہے ۔

ذرائع کے مطابق اس بحرانی کیفیت کے باعث کئی چھوٹے مدارس اور مکاتب اپنے تعلیمی سلسلہ کو انتہائی محدود اور بڑے مدارس بھی طلباء کی تعداد کو کم سے کم کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے یہ خدشہ ہے کہ نئے طلباء کے لئے داخلے تو تو شاید بہت مشکل ہو گا اور جن طلباء و طالبات کا تعلیمی سلسلہ جاری ہے ان کا سال ضائع ہونے کا خدشہ بھی ہے ۔

تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے سربراہ مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ وبا یقیناً سب کے لئے ایک امتحان ہے اور اہل مدارس کے لئے اس لئے بھی کہ ان کے سالانہ اخراجات کی بیشتر آمدنی رجب ، شعبان اور رمضان میں ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ پہلے مرحلے میں مدارس اور مساجد کے مارچ ، اپریل اور مئی کے بجلی اور گیس کے بل معاف کردیں ۔ باقی اخراجات کے حوالے سے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس کار خیر کے سلسلے کو جاری رکھیں اور ہر ممکن مساجد و مدارس کے ساتھ تعاون کریں ۔

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہاکہ کرونا کی وباء کے پیش نظر ائمہ مساجد اور موذنین اور مدارس ملازمین کی تنخواہوں کا انتظام بھی مشکل دکھائی دے رہاہے ایسے میں راشن تقسیم کرنے والے اداروں کو چاہیے وہ ان سفید پوشوں کا بھی خیال رکھیں جو گلی نکڑ جاکر نہیں مانگ سکتے ہیں۔ مساجد کمیٹی اور اہل محلہ کی ذمہ داری بنتی ہے وہ مدارس ملازمین، موذنین اور ائمہ مساجد کے ساتھ بھی بھرپور تعاون کریں۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے کوآرڈی نیٹر مولانا طلحہ رحمانی کا کہنا ہے کہ حالات کافی سنگین ہیں۔ مدارس کی اصل سنگین صورتحال رمضان کے بعد شوال میں سامنے آئے گی ، کیونکہ موجودہ صورتحال کے باعث مدارس کے لئے اخراجات برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔مولانا طلحہ رحمانی نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ مخیر حضرات اپنا تعاون جاری رکھیں ، اگر کسی مالی مشکل کی وجہ سے خیر کے یہ ادارے بند ہوئے یا کمی ہوئی تو ایسا نہ ہوکہ ہم کسی اور امتحان مبتلا ہوجائیں۔

دوسری جانب وفاق المدارس کے سیکرٹری قاری حنیف جالندھری نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں مساجد، مدارس اور تبلیغی جماعت پر کورونا وائرس پھیلانے کے الزامات کے پس منظر میں گفتگو کی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے