پاکستان

نیشنل ہیلتھ الائنس کا چیف جسٹس کو خط

اپریل 19, 2020

نیشنل ہیلتھ الائنس کا چیف جسٹس کو خط

پاکستان کی سپریم کورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت کیوں موجود نہیں ہے جبکہ شوکت خانم ہسپتال اور آغا خان ہسپتال میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے؟ وزرا روزانہ ماسک تبدیل کرتے ہیں لیکن ہسپتالوں کا عملہ بنیادی حفاظتی آلات سے محروم ہے۔ گرینڈ نیشنل ہیلتھ الائنس کی طرف سے چیف جسٹس کے نام لکھے گئے خط میں کئی اہم انکشاف بھی کیے گئے ہیں

جہانزیب عباسی

چیف جسٹس گلزار حمد کے نام لکھے گئے خط میں معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا اور صوبائی صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف فوجداری کارروائی چلانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

اس سے قبل بھی ایسا ہی ایک خط منظر عام آیا تھا جس میں ڈاکٹر ظفر مرزا کو عدالتی حکم کے ذریعے عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی گئی تھی ۔

صحت کی بنیادی سہولیات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ڈاکٹر ظفر مرزا کی قابلیت کا پوچھ چکے ہیں، ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا بھی عندیہ دیا گیا لیکن تحریری حکمنامے میں ایسی ہدایت نہیں تھی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ معاون خصوصی ظفر مرزا اور پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کرونا انتظامات سے متعلق عدالت کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کرونا کے مریضو ں کیلئے سہولیات کی فراہمی سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے، معاون خصوصی ظفر مرزا اور وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کہیں مال تو نہیں بنا رہے؟

ڈاکٹروں کے خط میں کہا گیا ہے کہ روز وزرا ایئر پورٹس پر فوٹو سیشن کرواتے ہوئے یہ بیان دیتے ہیں چائنہ سے کروٹا ٹیسٹ کٹ ، وینٹی لیٹرز سمیت دیگر آلات ملے، کہیں پاکستان کو چائنہ سے ملنے والے طبی آلات سمگل تو نہیں ہو رہے۔ وزرا یہ غلط تاثر دے رہے ہیں کہ ینگ ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف نے او پی ڈیز اور ان ڈور ایمرجنسی پر کام روک دیا ہے، ڈریپ کی طرف سے تاحال پلازما ٹیکنالوجی کی منظوری نہیں دی گئی، درحقیقت ڈریپ میں تکنیکی تجربے سے خالی بدعنوان افراد کا جھرمٹ موجود ہے، پلازما ٹیکنیک کیلئے کیا مزید اموات کا انتظار کیا جارہا ہے؟

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں کرونا کے لازمی ٹیسٹ کی سہولت کیوں موجود نہیں، شوکت خانم اور آغا خان ہسپتال میں کرونا ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد صحت کے بجٹ میں اضافے کی ہمیشہ بات کر تی رہیں لیکن ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں ، ڈریپ کے عملے کو ہسپتال عملے کے مقابلے میں تین گنازیادہ تنخواہیں دی جارہی ہیں ، وزارت صحت کے عملے کو کلریکل کام کے باوجود پیشہ وارانہ الاﺅنس کیو ں دیا جارہا ہے ، بھارت سے تین ارب روپے کی ٹائیفائیڈ ویکسین کیوں منگوائی گئی؟۔

خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا نے سی ای او ڈریپ اور کچھ ادویات ساز کمپنیوں کے ذریعے چیف جسٹس کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی۔ چیف جسٹس سے استدعا کی گئی ہے کہ وزراءاور انتظامیہ کو ہسپتالوں کے امور میں مداخلت سے روکا جائے، نکالے گئے طبی عملے اور ڈاکٹروں کو بحال کیا جائے، ہسپتال کے عملے کو دو گنا تنخواہ دی جائے ، صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد ، ڈاکٹر ظفر مرزا ، سی ای او ڈریپ کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے ، ڈاکٹراور طبی عملے کو حفاظی آلات فراہم کیے جائیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے