کابینہ نے تعمیری صنعت کا ٹیکس ختم کر دیا
پاکستان کے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے کنسٹرکشن انڈسٹری کو سیلز ٹیکس میں چھوٹ دے دی ہے اور اس سے جڑے کاروبار اور سروسز پر عائد پانچ فیصد ٹیکس کو ختم کر دیا گیا ہے۔ کابینہ نے اوگرا آرڈیننس میں ترامیم کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے جبکہ وزیراعظم کے چیئرپرسن مسابقتی کمیشن کو ہٹانے کے فیصلے پر کابینہ نے مسابقتی کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق سفارشات کی منظوری دی ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ مسابقتی کمیشن کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ری اسٹریکچر کیا جائے گا، مسابقتی کمیشن ماضی میں مخصوص شخصیات کو تحفظ دیتا رہا، کمیشن کے خلاف 27 درخواستیں دائر ہوچکی ہیں، مسابقتی کمیشن کے سٹیک ہولڈر نے ریاست کے27ارب روپے واپس کرنے ہیں، عوامی مفادات کے تحفظ کے خلاف پالیسیاں قابل قبول نہیں ہوں گی۔
فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کے کابینہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری رہائش گاہ سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی منظوری دی ہے، تمام سرکاری ملازمین سے متعلق یکساں پالیسی کا اطلاق چاہتے ہیں، وفاقی کابینہ نے اقلیتوں کے قومی کمیشن کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی ہے، قیام اور استحکام پاکستان میں اقلیتوں کا اہم کردار ہے، قومی کمیشن میں اقلیتی برادری سے ہی چیئرمین منتخب ہوں گے، اس سے پہلے قومی کمیشن کے چیئرمین اقلیت سے نہیں تھے، قومی کمیشن میں اقلیتوں کی اکثریت ہوگی۔
فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین محمد علی نے رپورٹ اور اپنی سفارشات پیش کیں، کابینہ کمیٹی قانون سازی اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔
ادھر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آئی پی پیز کے حوالے سے تحقیقات رپورٹ کو پبلک کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

