لاک ڈاؤن کو آہستہ آہستہ کھولنا ہوگا: وزیراعظم
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سے نمٹنا بڑاچیلنج ہے، کرونا کےباعث عالمی سطح پرلاک ڈاؤن اوربحرانی کیفیت پیداہوئی، رضاکار فورس کا مقصد امدادی سرگرمیوں میں تعاون ہے، ٹائیگرفورس کے رضا کار کوئی تنخواہ نہیں لیں گے، ان کا کام لوگوں کی مدد کرنا اور انہیں حکومتی ایس او پیز آگاہ کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے ٹائیگرفورس کے رضا کاروں سے کہا کہ وائرس سے نمٹنا بڑا چیلنج ہے، لاک ڈاؤن کے باعث بہت سارے لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں، لاک ڈاون کو آہستہ آہستہ کھولنا ہو گا، اگر ایس اوپیز پرعمل نہ کیا گیا توپھر سےلاک ڈاؤن کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹائیگر فورس میں 10 لاکھ افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے۔ فورس میں شمولیت اختیار کرنے والے نوجوانوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ٹائیگر فورس کو کوئی تنخواہ نہیں ملےگی ٹائیگر فورس رضاکارانہ فورس ہے، یہ پیسے اکٹھے نہیں کرے گی بلکہ لوگوں کو حکومتی ایس او پیز سے آگاہ کرے گی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ٹائیگر فورس مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
عمران خان نے کہا کہ برطانیہ کے وزیراعظم نے بھی فورس بنائی جس میں ڈھائی لاکھ افراد رجسٹر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں احساس ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ سفید پوش طبقہ بھی متاثر ہوا ہے۔’
انہوں نے کہ ‘کورونا کی وجہ سے ایک ایسی صورت حال کا سامنا ہے جو پچھلے سو سال میں بھی کبھی نہیں بنی۔ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ لوگوں کو بیماری، بھوک اور بے روزگاری سے بچائیں۔’

