لاک ڈاؤن 9 مئی سے مزید نرم کرنے کا فیصلہ
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے 9 مئی کے بعد لاک ڈاون میں مزید نرمی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ حتمی فیصلہ بدھ کو نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق مخصوص اوقات میں کاروبار کھولا جائے گا۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ وزرا اپنی ایک ماہ کی تنخواہ وزیراعظم ریلیف فنڈ میں جمع کرائیں گے۔ اپوزیشن کو عوامی مشکلات کی نہیں اپنے مفادات کی زیادہ فکر ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نو نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔
وفاقی کابینہ نے 9 مئی کے بعد لاک ڈاون میں مزید نرمی کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ حتمی فیصلہ کل نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس میں کیا جائے گا۔ عید سے قبل حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق مخصوص اوقات میں کاروبار کھولا جائے گا۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وباء کی صورتحال میں بھی اپوزیشن کو عوام کی نہیں اپنی سیاست کی فکر ہے۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں افراط زر کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ساری توجہ غریب طبقے کے مسائل کے حل پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے دو ماہ تک بغیر وارنشنگ کے نوٹ چھاپنے کی سمری موخر کر دی جبکہ بھارت سے 429 دواوں اور ان کے خام مال کی درآمدات کی سمری بھی مسترد کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے اقلیتی کمیشن میں احمدی رکن کی شمولیت کی مخالفت کی، صرف دو ارکان نے اقلیتی کمیشن میں احمدی رکن کی شمولیت کی تجویز کی حمایت کی۔

