پاکستان

پشتون موومنٹ کے احتجاج کرتے کارکن گرفتار

مئی 6, 2020

پشتون موومنٹ کے احتجاج کرتے کارکن گرفتار

پاکستان میں پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم) کے رہنما عارف وزیر کے قتل کے خلاف خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں شریک 17 کارکنوں کو پولیس نے کو گرفتار کیا۔

مقامی صحافیوں کے مطابق احتجاجی مظاہروں میں پی ٹی ایم کارکنوں کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پیپلزپارٹی، قومی وطن پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں اور عہدے داروں نے بھی شرکت کی۔

ان مظاہروں کے دوران مردان، بنوں اور دیگر علاقوں سے پشتون تحفظ تحریک کے بعض کارکنوں کو حکومت اور سکیورٹی فورسز پر تنقید کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

جنوبی وزیرستان کے انتظامی مرکز وانا کے احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

پشتون تحفظ تحریک کے عبداللہ ننگیال کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔ مظاہرے میں شریک ہزاروں افراد نے حکومت اور امن کمیٹیوں کے خلاف نعرے لگائے۔

مقررین نے وانا میں امن کمیٹی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہو گی۔

مظاہرین نے عارف وزیر کے قتل کی مذمت کی اور الزام لگایا گیا کہ ان کو ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ قتل کیا گیا۔ ایک قرارداد کے ذریعے عارف وزیر کے قتل کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

پشار کے حیات آباد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر اور ڈاکٹر سید عالم محسود سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

صوابی کے احتجاجی جلسے سے ڈاکٹر نور الامین محمد سلیم خان ایڈوکیٹ اور گوہر انقلابی نے خطاب کیا۔

مردان میں احتجاج کے دوران خلاف نعرہ بازی کرنے پر پولیس نے 10 افراد کو گرفتار کر کے مقامی تھانے منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی۔

حتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی ایم رہنماؤں نے عارف وزیر کے قتل کا ذمہ دار حکومت اور ریاستی اداروں کا ٹھیرایا۔
پشاور، وانا اور مردان کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، باجوڑ، بنوں، صوابی اور دیگر شہروں اور قصبوں میں بھی پشتون تحفظ تحریک نے احتجاج کیا۔

عارف وزیر پر جمعے کی شام افطار سے قبل تھانہ وانا کی حدود میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ اُنہیں تین گولیاں لگی تھیں۔
عارف وزیر کو ہفتے کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائسنز (پمز) میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ عارف وزیر جنوبی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ تحریک کے بانی رہنما علی وزیر کے چچا زاد بھائی تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے