غریب ملکوں میں وائرس کے بعد قحط کا خطرہ
دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ملکوں میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 84 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد 37 لاکھ 55 ہزار سے زائد ہیں۔
امریکہ میں متاثرین کی تعداد 12 لاکھ 28 ہزار سے زائد ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سپین ہے جہاں دو لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد میں اب تک کورونا وائرس منتقل ہوا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ دنیا کے کمزور معیشت والے ملکوں میں حالیہ بحران اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے قحط کا خطرہ ہے۔
عالمی ادارے نے ایک نئی اپیل میں کہا ہے کہ غریب ملکوں میں کروڑوں افراد کی زندگی بچانے اور کورونا پر قابو پانے کے لیے چار ارب 70 کروڑ کے فنڈز درکار ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ نے وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی امداد میں دو ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔ 25 مارچ کو کی گئی اس اپیل کی جواب میں تاحال صرف ایک ارب ڈالر حاصل ہوئے ہیں۔
آئی ایم ایف نے افریقی ملکوں کینیا اور یوگنڈا کو بھی ان ممالک میں شامل کر دیا ہے جن کو وائرس سے نمٹنے کے لیے امداد دی جائے گی۔
چین اور جنوبی کوریا میں وائرس کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ کورونا وائرس پر بڑی حد تک قابو پانے کے بعد جنوبی کوریا میں زندگی کے معمولات بحال ہو گئے ہیں۔
دنیا کی بڑی کار ساز کمپنی جنرل موٹرز کے منافع میں بڑی کمی رپورٹ کی گئی ہے۔ ایک بیان میں کمپنی نے کہا ہے کہ وہ امریکہ میں اپنے پلانٹ کو 18 مئی سے کھول رہی ہے۔

