گلگت بلتستان کی حکومت کے اختیارات پر وار!
تحریر: عبدالجبارناصر
حکومتی اختیارات کی سلبی !
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے 18 مئی 2020ء کو ایک حکم نامے کے ذریعے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات تک (یہ ہوتے کب ہیں تاحال علم نہیں) تمام تقرریوں، تبادلوں، بھرتیوں، ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح، فنڈز کے اجراء، اعلانات اور فنڈز فراہمی پر پابندی عائد کردی ہے یعنی حکومت اور عوام کے منتخب نمائندوں کے اختیارات ان کی قانونی مدت ختم ہونے سے 40 دن قبل سے ہی سلب کر لیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن پر غور کیا جائے تو عملاً تمام انتظامی اختیارات چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں اور اس وقت موصوف چیف الیکشن کمشنر، چیف منسٹر(وزیراعلیٰ )، چیف سیکریٹری الغرض سب کچھ خود ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کے چیپٹر 2 کے سیکشن 4(3)، 5 اور8(سی)کا حوالہ دیا ہے، لیکن سیکشن 5(4) کا غالبا دانستہ ذکر نہیں کیونکہ اس کے ذکر سے سارا ڈرامہ سامنے آتا۔ انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کا اطلاق گلگت بلتستان میں صدر پاکستان نے 15 مئی 2020ء کو ایک حکم نامے کا ذریعہ کیا ہے۔
راجہ صاحب کی تقرری!
راجہ صاحب جب ا نسداد دہشتگردی عدالت گلگت کے جج تھے تو کئی حوالوں سے معروف او مشہور تھے ،مثلاً عدالتی دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود میر شکیل الرحمان اور شائستہ واحدی کے خلاف فیصلے دینا وغیرہ وغیرہ ۔ جولائی 2019ء میں جب گورنر گلگت بلتستان کی مشاورت سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے راجہ صاحب کو چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نامزد کیا تو اسی وقت اندازہ ہواتھا کہ گلگت بلتستان میں انتخابی مستقبل کیسا ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود امید تھی شاید راجہ صاحب گلگت بلتستان میں انتخابات کے لئے منظم اور بہتر کام کریں گے ، مگر جولائی 2019ء سے مئی 2020ء تک عملی میدان میں انتخابات 2020ء کے حوالے سے کوئی ایک قدم بھی نظر نہیں آرہاہے(سوائے منتخب حکومت اور متوقع نگراں حکومت کے اختیارات سلب کرنے کے)۔
اس ضمن میں راجہ صاحب اور ان کی ٹیم کے پاس یہ جائز جواز موجود ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی قوانین کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں تھی ،کیونکہ پاکستان میں عام انتخابات 2018ء انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کے تحت ہوئے تھے اور گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں ہونے اور منقسم اور متنازع ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ سے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کی منظوری کے بعد اس کا اطلاق ازخود نہیں ہوتا ہے، ماضی کے تمام انتخابات تقریباً پاکستان کے انتخابی قواتین کے مطابق ہی ہوتے رہیں ۔
صدارتی حکم نامہ !
گلگت بلتستان کے انتظامی حکم نامہ 2018ء میں 15 مئی 2020ء کو ترامیم اور انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کے گلگت بلتستان میں اطلاق سے قبل یہ توقع کی جارہی تھی کہ وفاقی حکومت اور ادارے کورونا وبا کی بحرانی کیفیت کی وجہ سے شاید موجودہ اسمبلی کی مدت میں توسیع کردیں ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کے بعض ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ حکومتی مدت میں توسیع کی آفر دی گئی تھی ، جبکہ تحریک انصاف کے کئی رہنمائوں نے اس کی تردید کی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال اس کی کوئی تردید یا تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
صدر پاکستان ڈاکٹر عارف الرحمان علوی کی جانب سے گلگت بلتستان کے انتظامی حکم نامہ 2018ء میں 15 مئی 2020ء کو ترامیم اور انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کے گلگت بلتستان میں حکم نامے کے ذریعہ اطلاق کے بعد چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان اوران کی ٹیم کے لئے صورتحال واضح تھی کہ وہ مقررہ وقت میں انتخابات 2020ء کے لئے اقدام کریں گے ،مگر اس کی بجائے ساری توجہ ’’صرف میں ‘‘پر مرکوز کی گئی ۔
راجہ صاحب کا ا قدام صحیح یا غلط !
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 18 مئی 2020ء کے نوٹیفکیشن میں انتخابی اصلات ایکٹ کے جن سیکشنز کا حوالیہ دیا ہے ، ان میں اگر چہ قانونی حکومت کی موجودگی میں اس طرح کے اختیارات کے استعمال کی وضاحت نہیں ہے، یہ اختیارات عموماً انتخابی شیڈول کے اجراء کے بعد استعمال ہوتے ہیں ، تاہم عام انتخابات 2018ء میں اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف کے شدید احتجاج اور اعتراض کے بعد 12 اپریل 2018ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کچھ پابندیاں عائد کر نے کی ایک مثال موجود ہے اورالیکشن کمیشن نے اپنے نوٹیفیکشن میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہا تھاکہ ہم یہ اقدام شدید اعتراضات اور شکایات کی وجہ سے کر رہے ہیں ، جبکہ یہ بات بھی طے تھی کہ پاکستان میں عام انتخابات 2018 ء اگست سے قبل ہونگے اور انتخابات کا شیڈول بھی 31 مئی 2018ء کو ہوا، ایسے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اقدام کا جواز کسی حدتک بنتا ہے۔
بروقت انتخابات مشکل کیوں؟
گلگت بلتستان کی قانونی حکومت کی مدت 24 جون 2020ء کو پوری ہورہی ہے، ایسے میں انتخابات ستمبر 2020ء میں ہونے چاہئے اور 20 مئی 2020ء سے شمار کریں تو تین سے 4 ماہ باقی ہیں ، مگر یہاں تو دور دور تک انتخابات کا نام و نشان ہی نظر نہیں آرہا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 51(5)اور انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کے چیپٹر 3 سیکشن 17 سے 22 تک کے مطابق سب سے پہلے تو گلگت بلتستان میں نئی حلقہ بندی ضروری ہے۔اس کے بغیر کسی صورت انتخابات ممکن نہیں ہیں ، یا پھر ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے گلگت بلتستان میں اس حصے کا اطلاق ختم کردیا جائے ۔ یہ حصہ ختم کریں یا رہنے دیا جائے ہر دو صورت میں گلگت بلتستان کے انتظامی حکم نامہ 2018ء میں ترامیم ضروری ہیں اور یہ کام وفاقی حکومت نے کرناہے۔ انتخابی حلقوں کی تعداد میں یا پھر حلقوں کی آبادی میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ موجودہ حلقہ بندی پانچویں مردم شماری 1998ء کے مطابق ہے ، موجودہ حلقہ بندیوں کی بنیاد پر انتخابات کسی صورت ممکن نہیں ہیں۔ چھٹی مردم شماری 2017ء میں کئی اضلاع اور حلقوں کی ڈیمو گرافی تبدیل ہوچکی ہے اور نئے اضلاع بھی بنے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں انتخابات کی تیاری ابھی سے شروع کی جائے تو بھی دسمبر 2020ء تک بہت مشکل دکھائی دے رہی ہے اور گلگت بلتستان میں سخت موسمی حالات اور لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث الیکشن دسمبر سے مئی تک تقریباً ناممکن ہیں، ایسی صورت میں متوقع انتخابات جون 2021؍ءمیں ہی ہوسکتے ہیں۔
نئی حلقہ بندیوں کے لئے مدت!
نئی حلقہ بندیوں کے لئے انتخابی اصلاتی ایکٹ 2017ء میں پورا طریقہ درج ہے ،پہلا کام حدی بندی کمیٹی کا قیام ہے اور جب سے یہ کمیٹی کام شروع کرے اس دن سے حتمی نوٹیفکیشن تک کم سے کم بھی 60 دن درکار ہیں اور اگر کسی نے کمیٹی کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کیا اور حدبندی کا کام یکم جون 2020ء سے بھی شروع ہوا تو یہ جولائی 2020ء میں مکمل ہوگا۔موجودہ بحرانی کیفیت میں بظاہر ایسا نہیں لگتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر آف گلگت بلتستان کے لئے یہ کام آسان ہوگا۔ تازہ ترین ووٹرز فہرستوں کی تیاری بھی کسی امتحان سے کم نہیں یہ عمل بھی کم سے بھی پونے دو ماہ کا ہے ۔ اسی طرح دیگر انتخابی تیاریاں بھی شامل ہیں ۔ یہ کام حکومتوں کے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے ہیں اور انتخابی اصلاتی ایکٹ 2017ء کے چیپٹر 2 کے سیکشن 14 اور دیگر کئی مقامات پر چیف الیکشن کمشنر اور ان کی ٹیم کو وضاحت کے ساتھ ان کی زمہ داریوں سے آگاہ کیاگیاہے۔
چیف الیکشن کمشنر یا چیف منسٹر؟
چیف الیکشن کمشنر آف گلگت بلتستان کو یہ بات رکھنی چاہئے کہ وہ چیف منسٹر (وزیر اعلیٰ )نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر ہیں اور چیف الیکشن کمشنر کے طور پر اتنا کام باقی ہے کہ الامان والحفیظ ! صاف شفاف انتخابات الیکشن کمشنر کی اہم زمہ داری ہے مگر جب الیکشن کے دور دور تک آثار نہیں تو منتخب اور متوقع نگراں حکومت کے ہاتھ پیر کاٹنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ 18 مئی 2020ء کے نوٹیفکیشن میں الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے جس طرح کی پابندیاں عائد کی ہیں ، ان سے تو نہ صرف نگراں حکومت مفلوج ہوگی ، بلکہ پورا نظام دھنس جائے گا اور نگراں وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے ارکان صرف ایک کٹھ پتلی بن کر رہ جائیں گے۔ ہر ادارے کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کام کرنا چاہئے ۔اسی میں عزت و وقار ہے۔

