پاکستان

پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات کو نظرانداز کیا؟

مئی 27, 2020

پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات کو نظرانداز کیا؟

شہری ہوا بازی بالعموم اور بالخصوص ایئر ٹریفک کنٹرول ایک ایسا شعبہ ہے جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ یہ ایسے گمنام سپاہی ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا ادراک و اعتراف تو درکنار، خدمات سے متعلق بھی بہت کم لوگ واقف ہوتے ہیں ۔ چاہے کرونا کے باعث لاک ڈاؤن ہو، یا 14اگست اور 25 دسمبر کی قومی تعطیلات، عید ہو یا شب برات ، حالت امن ہو یا جنگ، سال کے 365 دن اور دن کے 24 گھنٹے یہ ہزاروں پروازوں کو انجن کے سٹارٹ ہونے سے لے کر فضاؤں میں بلند ہوکر اپنی منزلوں تک محفوظ و مامون پہنچنے، اپنے مطلوبہ ہوائی اڈے پر خیریت سے اترنے اور پارکنگ تک کروانے میں اپنی راہنمائی و خدمات انتہائی جانفشانی اور خاموشی سے ادا کرتے ہیں۔

روزانہ کروڑوں کی تعداد میں انسان ہوائی سفر کرتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ جب وہ اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے یا بسلسلہ روزگار ہوائی سفر کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے اس سفر کو ممکن بنانے اور پروازوں کی سلامتی کے لئے محکمہ شہری ہوا بازی کے ملازمین بلعموم اور بالخصوص شعبہ ایئر ٹریفک کنٹرول کےاہلکار انتہائی محنت، جاں فشانی اور خاموشی سے اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

یہ ایسے گمنام سپاہی اور ہیرو ہوتے ہیں کہ جن افراد کی زندگیوں اور اور ہوائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں، وہ مسافر بھی ایسے گمنام محسنوں کی کاوش سے لاعلم ہوتے ہیں۔ جہاز کے کپتان کی ذمہ داری تو صرف اپنے جہاز سے متعلق ہوتی ہے۔ لیکن ایئر ٹریفک کنٹرولر ایک ہی وقت میں درجنوں جہازوں کو زمین اور فضا میں رہنمائی اور ہدایات دے کر ان کی سلامتی کو یقینی بنا رہے ہوتے ہیں۔ سوائے چند ایک ہنگامی حالات کے، جہاز کے کپتان پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر لازمی عمل کریں۔

بسا اوقات جہاز کے کپتان کی معمولی سی لاپرواہی اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات کو نظرانداز کرنے کا عمل ایک بڑے حادثے کی صورت میں نمودار ہوتا ہے ہے۔

22 مئی 2020 کو جمعۃ الوداع کے مبارک لمحات میں پاکستانی عوام کو پچانوے معصوم افراد کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ جب پی آئی اے کی پرواز ‏8303 لاہور سے کراچی جاتے ہوئے لینڈنگ سے چند لمحات قبل ایک حادثے کا شکار ہوگئی۔ اس حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اور حادثے کی مکمل وجوہات کے تعین میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ لیکن اس سے پہلے ہی حادثے سے متعلق عوام الناس میں مختلف خیالات زیر بحث ہیں۔

اس حادثے کو بچانے کے لئے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مایہ ناز ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے پورے خلوص سے کوشش کی۔ ریڈار سکرین کے سامنے اور کراچی کنٹرول ٹاور پرمتعین ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے اعصاب پر قابو پاکر کر انتہائی پرسکون لیکن پراعتماد انداز میں پی آئی اے 8303 کے کپتان کوہر ممکن رہنمائی اور مدد فراہم کی۔

جس وقت جہاز کراچی ایئر پورٹ پر لینڈنگ کے لیے رن وے کی جانب گامزن تھا۔ اسی وقت اپروچ کنٹرولر نے پیشہ ورانہ مہارت و تربیت اور سالوں پر محیط تجربے کی بنا پر، جہاز کے کپتان کو مطلوبہ معیار سے زیادہ بلندی اور تیز رفتار کی نشاندہی کرتے ہوئے طیارے کا رخ موڑنے کی ہدایت کی تاکہ جہاز ایک نسبتا طویل چکر لگا کر مطلوبہ بلندی اور رفتار میں کمی کر سکے۔

ایئر ٹریفک کنٹرول کے مطابق جہاز کے کپتان نے اصرار کیا کہ وہ پرسہولت انداز میں طیارے کی لینڈنگ کو ممکن بنا سکتا ہے۔ کپتان نے ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایت کے برعکس رن وے پر متعین نشانات سے بہت آگے لینڈنگ کی کوشش کی۔

اس دوران کسی تکنیکی خرابی یا مبینہ طور پر کپتان کی غفلت کے سبب لینڈنگ گیئر (جہاز کے پہیے) نہ کھل سکے اور مبینہ طور پر رن وے سے رگڑ کھانے کے باعث دونوں انجنوں کو بری طرح نقصان پہنچا۔

کپتان نے ایک دفعہ پھر طیارے کا رخ فضا کی طرف بلند کردیا اور گو آراؤنڈ (دوبارہ ایک فضائی چکر لگا کر محفوظ لینڈنگ کی کوشش کرنے) کا فیصلہ کیا۔

کسی بھی ہنگامی حالت میں میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کا کام جہاز کے کپتان کے تجربے اور مشاہدے پر اعتبار کرتے ہوئے اس کو ہر طرح کی مطلوبہ اور معیاری سہولیات بہم پہنچانا ہوتا ہے۔

اس موقع پر معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایئر ٹریفک کنٹرولر نے جہاز کے کپتان کو ہر ممکنہ سہولت اور مدد فراہم کی۔ کپتان کی خواہش کے مطابق مطلوبہ بلندی اور سمت کو یقینی بنانے میں کردار ادا کیا۔ اور انتہائی سرعت کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ پر دونوں رن وے خالی کرواتے ہوئے انھیں پی آئی اے 8303 کے لئے دستیاب کیا۔ اور جہاز کے کپتان کو اس معاملے سے آگاہ کیا۔

اس دوران بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کے ایئرٹریفک کنٹرولر کی خدمات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ اس نے اس قلیل وقت کے دوران ہوائی اڈے اور اس کے اطراف میں موجود دیگر جہازوں کو اس متاثرہ طیارے سے دور رکھا، تاکہ دیگر جہازوں اور ان کے مسافروں کو مزید کسی حادثے سے بچایا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ پی آئی اے 8303 کا کپتان اطمینان کے ساتھ ہنگامی لینڈنگ کرسکے۔
اس دوران اس نے دونوں رن وے کے اطراف میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے شعبہ فائر فائٹنگ کے انتہائی جدید فائر کریش ٹینڈرز کو متنبہ کرتے ہوئے تعیناتی کے احکامات جاری کیے اور اپنے حکام بالا کو اس صورتحال سے آگاہ کیا۔

یہ تمام افعال انتہائی پرسکون لیکن مکمل اعتماد کے ساتھ انجام دیے۔ ایسے وقت میں جب کہ جہاز کو ہنگامی لینڈنگ کے لیے تمام تر درکنار سہولیات مہیا کی جا چکی تھیں۔ کنٹرولر انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے متاثرہ جہاز اور اس کے عملے سمیت تمام مسافروں کی باحفاظت لینڈنگ کے لیے کوشاں اور دعاگو تھا۔ ایسے وقت میں جب آپ کے دل و دماغ میں انسانی زندگیوں کی حرمت اور حفاظت کا خیال جاگزیں ہو، اپنے اعصابی تناؤ پر مکمل قابو پاتے ہوئے درست رہنمائی کی کوشش کرنا ایئر ٹریفک کنٹرولر کی پیشہ ورانہ مہارت اور سالوں پر محیط تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یقینا اس بہترین کاوش کے باوجود جہاز اور اس میں سوار قیمتی جانیں نہیں بچ سکیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس اعصابی جنگ کے دوران جس جذبے، خلوص اور مہارت کے ساتھ انتہائی خاموشی سے اس گمنام ہیرو نے اپنی قوم کے اثاثے اور قیمتی جانوں کو بچانے میں بے مثال کردار ادا کیا۔ وہ بذات خود ایک قابلِ تعریف و توصیف کاوش ہے۔

ایسے سینکڑوں واقعات ہیں جن میں انسانی جانیں بچائیں جاتی ہیں اور ہوائی جہاز بارہا حادثات سے محفوظ رہتے ہیں، لیکن ان واقعات کی تفصیلات اور اس میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز کا کردار عوام الناس کے سامنے نہیں آتا۔

(مضمون نگار سول ایوی ایشن سے منسلک رہے ہیں اور یہ ان کی معلومات و رائے ہے۔ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے پر ہی حقائق کا درست ادراک و علم ہو سکے گا)

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے