جسٹس قاضی فائز کے خلاف فروغ نسیم میدان میں
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
پیر کو اپنا استعفا وزیراعظم عمران خان کو بھجواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز کی اپیل میں حکومت کی نمائندگی کریں گے۔
فروغ نسیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر کیس میں وفاق کی پیروی کریں گے اور یہ کہ ان کی عدلیہ یا کسی جج سے کوئی مخاصمت نہیں بلکہ وہ قانون کی حکمرانی کے لیے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔
جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کل ہوگی۔
واضح رہے کہ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے حکومتی کی نمائندگی سے معذرت کر لی تھی۔
عدالت نے کیس میں پیش ہونے کے لیے فروغ نسیم کا لائسنس بحال کرانے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی جانب انگلیاں اٹھ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
جسٹس قاضی فائز نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکاروں پر تنقید کی تھی۔
جسٹس فائز عیسی اگلے عام انتخابات کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس ہوں گے اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ان کی غیر جانبداری اور سخت مزاجی سے خطرہ ہے۔

