پاکستان

’جسٹس فائز کو ہٹانے کا آئیڈیا مس کال تھی‘

جون 4, 2020
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ فوٹو: پاکستان ٹوئنٹی فور

’جسٹس فائز کو ہٹانے کا آئیڈیا مس کال تھی‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کو اُس منصوبہ ساز روشن دماغ کی تلاش ہے جس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ریفرنس دائر کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ بات جمعرات کو صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے دس رکنی لارجر بینچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے کی۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مس کنڈکٹ کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا آئیڈیا دینا ایک ناکام کوشش (مس کال) تھی۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے جسٹس مقبول باقر نے کہا وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں پر سال 2013 میں بیرون ملک جائیدادیں بنانے کا الزام لگایا، جب بیرون ملک جائیدادیں خریدی گئیں اُس وقت تو منی لانڈرنگ اور فارن ایکسچینج کا قانون ہی نہیں تھا۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ قانون سنہ 2016 اور فارن ایکسچینج ایکٹ 2015 میں آیا، کیا جب جائیدادیں بنائی گئیں اُس وقت وہ اقدام جرم کے زمرے میں آتا تھا۔

وفاقی حکومت کے وکیل کی حالت اُس وقت دیدنی تھی جب جسٹس منیب اختر نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا ہمیں اُس روشن دماغ کے بارے میں بتائیں جس نے یہ مشورہ دیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مس کنڈکٹ کا مقدمہ بنایا جائے، معاملہ نیب یا ایف بی آر کے حوالے کی بجائے مس کنڈکٹ کا ریفرنس بنانے کا برائٹ آئیڈیا کس کا تھا؟ یہ توسنگین غلطی معلوم ہوتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ وہ شخص کون تھا جس نے اس کیس کو ایف بی آر یا ایف آئی اے میں بھیجنے کی بجائے ریفرنس بناکر بھیجنے کا مشورہ دیا؟ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ صدر کی رائے قانون کے مطابق نہیں تھی تو صدارتی ریفرنس کاغذ کا ٹکڑا رہ جائے گا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ اپنا کام کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران سابق وزیر اطلاعات فردو س عاشق اعوان کا تذکرہ بھی ہوا۔ جسٹس مقبول باقر نے فردوس عاشق اعوان کا نام لیے بغیر کہا اُس وقت کی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ جج صاحب نے کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگائی تھی، لگتا ہے صدارتی ریفرنس صرف کریز سے باہر نکل کر شاٹ لگانے پر بنایا گیا۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا کام پاکستان سے لوٹ کر بیرون ملک بنائی گئی دولت واپس لانا تھا،جب جج صاحب نے کہا کہ جائیدادیں اُن کی نہیں ہیں تو جائیدادیں بیچ کر پیسہ واپس کیوں نہیں لایا گیا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ سے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا کل سوال پوچھا تھا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا،اگر آج میرے سوال کا جواب نہیں دے سکتے تو کل دے دیں، آج کے سوالات اپنی جگہ لیکن کل ایک سوال پوچھا تھا اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کتنے عوامی عہدہ رکھنے والوں کیخلاف کارروائی کی؟کیا آپ فہرست یا تفصیل لائے ہیں۔ فروغ نسیم خاموش رہے۔

کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا جسے عدالت نے غیر متعلقہ قرار دیدیا۔ایک موقع پر جب فروغ نسیم نے کہا عدالت نے مجھ سے ستائیں سوال پوچھے ہیں پہلے میں جسٹس مقبول باقر کے سوال کا جواب دونگا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت سے متعلق سوال زیادہ اہم ہے۔فروغ نسیم نے کہا میں پہلے سینئر جج کے سوال کا جواب دونگا۔

حکومتی وکیل نے جب بے نظیر بھٹو کیس کا حوالہ دیا تو جسٹس مقبول باقر کہا کہ ’میرا سوال آپ کی دلیل سے مختلف ہے۔‘

بریسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراعظم یا صدر انکم ٹیکس، منی لانڈرنگ کے قوانین پر ماہرانہ رائے کیسے دے سکتے ہیں، صدر مملکت پیشہ کے لحاظ سے دانتوں کے ڈاکٹر جبکہ وزیراعظم کرکٹر رہے ہیں، وزارت قانون نے مکمل آزاد زہن استعمال کیا۔

بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آرٹیکل 209 محض ایک آرٹیکل نہیں بلکہ عدلیہ کا محافظ ہے، آرٹیکل 209 نہ ہوتا تو ماتحت عدلیہ کی طرح سپریم کورٹ میں سروس ٹربیونل ججوں کی شکایات سن رہا ہوتا،صدر کو اپنا آزاد زہن استعمال کرنا چاہیے، صدر کاآزاد ذہن استعمال کیے بغیر وزیراعظم یا کسی وزیر کی ایڈوائیز پر عمل کرنے کا پابند ہونے کی دلیل شاید غلط راستے پر چلنے کے مترادف ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا سب سے اہم سوال اثاثہ جات ریکوری یونٹ سے متعلق ہے،ہم اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا سوال پوچھتے ہیں آپ جواب دیے بغیر آگے نکل جاتے ہیں۔

بریسٹر فروغ نسیم نے کہا سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں ایسٹ ریکوری یونٹ قائم ہوا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا سپریم کورٹ نے کب اور کہاں ہدایات دیں، ہمیں دکھائیں۔ایڈووکیٹ فروغ نسیم نے جواب دیا 2018 میں سپریم کورٹ نے بیرون ملک جائیدادوں اور اثاثوں کے مقدمے کا ازخود نوٹس لیا،جسٹس عمر عطا بندیال آپ اس بنچ کا حصہ تھے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا سپریم کورٹ کے کس فیصلے میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ قائم کرنے کا کہا گیا۔ایڈووکیٹ فروغ نسیم بولے براہ راست کہیں نہیں لکھا ہوا، حکومت نے بلاواسطہ فیصلے کی روشنی میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو قائم کیا۔

حکومتی وکیل نے دلائل میں کہا 20 اگست 2018 کو کابینہ نے شہزاد اکبر کی مشیر برائے احتساب کمیشن تقرری کی،بیرون ملک اثاثوں کی چھان بین کیلئے بھی کابینہ نے منظوری لی۔جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال پوچھا آپ نے کابینہ کا ریکارڈ دیا اس کے مطابق شہزاد اکبر کا کام قانون سازی اور انتظامی زمہ داریاں تھیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا 20 اگست کو تقرری ہوئی، سمری بھی بنا کر پیش کردی،ٹاسک فورس بھی اسی دن بنی، سب کچھ ایک ہی دن میں ہوگیایہ کیسے ممکن ہے؟۔فروغ نسیم بولے شہزاد اکبر اثاثہ جات اور قانون معاملات میں بہت قابل اور تجربہ کار ہیں۔جسٹس مقبول باقر بولے شہزاد اکبر کی قابلیت باقی جگہوں پر بھی نظر آنی چاہیے۔عدالت نے مقدمے کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے