کراچی سٹاک ایکسچینج حملہ، ”ناکام بنانے کا کریڈٹ کس کا؟“
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں مسلح افراد نے سٹاک ایکسچینج کی عمارت میں گھس کر فائرنگ کی جس میں پولیس اہلکار اور سکیورٹی گارڈز مارے گئے۔
سندھ رینجرز کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں حملہ آوروں کو 20 منٹ میں مارنے کا کریڈٹ سکیورٹی فورسز کو دیا جس پر سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھا رہے ہیں اور سندھ پولیس کے جوانوں اور حملے میں مارے جانے والے گارڈز کو ہیرو قرار دے رہے ہیں۔
قبل ازیں سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کے مطابق جوابی کارروائی میں چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
پاکستان کے ٹی وی چینلز کو پیمرا نے ہدایت کی کہ براہ راست کوریج نہ کی جائے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے 4 افراد کو سول اسپتال منتقل کیا گیا۔
کراچی سٹاک ایکسچینج کی عمارت شہر کے کاروباری مرکز آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے۔ عمارت پر پیر کی صبح دہشت گردوں نے حملہ کیا، دستی بم پھینکے اور فائرنگ کی۔
ایدھی ذرائع کے مطابق عمارت سے 5 افراد کی نعشیں منتقل کی ہیں جن میں سے دو نعشیں مبینہ دہشت گردوں کی ہیں جو پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہوئے۔
سٹاک ایکسچینج کی عمارت کے قریب ہی پولیس ہیڈکوارٹر کی عمارت بھی واقع ہے۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ سٹاک ایکسچینج کی عمارت کو سیکیورٹی فراہم کرنا سندھ پولیس کی ذمہ داری ہے۔
پولیس، رینجرز اور ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود رہیں جبکہ سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا۔
پاکستان کی فوج کے اہلکار بھی عمارت میں پہنچے اور بلڈنگ کو کلیئر کیا گیا۔
سندھ رینجرز اور کراچی پولیس کے مطابق چاروں حملہ آور مارے گئے اور ان کے قبضے سے دستی بم اور اسلحہ ملا۔

