بار کونسل کو چیئرمین ایف بی آر کے تبادلے پر تحفظات
پاکستان بار کونسل نے چیئرمین ایف بی آر کو اچانک عہدے سے ہٹانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
جہانزیب عباسی
پاکستان بار کونسل کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو اچانک تبدیل کرکے محمد جاوید غنی کو تین ماہ کیلئے ایڈہاک بنیاد پر تعینات کیا گیا،چیئرمین ایف بی آر کی اچانک تبدیلی حیران کن اور تشویشناک ہے.
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں چیئرمین ایف بی آر کو تبدیل کیا گیا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ہائی پروفائل مقدمہ ایف بی آر کو بھیجا گیا،بظاہر چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانا تحقیقات پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے،چیئرمین ایف بی آر کو ایسے وقت میں ہٹانا اور مستقل چیئرمین تعینات نہ کرنا حکومتی بدنیتی اور توڑ جوڑ ہے.
پاکستان بار کونسل نے مزید کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے حکومت ایف بی آر کی تحقیقات پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے،حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں غیر جانبدار نہیں ہے،حکومت اس معاملے میں غیر جانبدار نہ رہ کر توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے.
پاکستان بار کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے،گریڈ 22 کے غیر جانبدار افسر کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کیا جائے،غیر جانبدار چیئرمین ایف بی آر کی تقرری سے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن ہو سکتی ہیں،اگر غیر جانبدار چیئرمین ایف بی آر کا تقرر نہ کیا گیا تو بار قاضی فائز عیسیٰ کیس کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرے گی، حکومت کے اس اقدام پر شدید مزاحمت کی جائے گی۔

