آغا افتخارالدین کون؟ عدالت میں اہم انکشاف
ملزم آغاافتخار الدین مرزا نے قادیانیت ترک کرکے شیعہ مسلک اپنایا، چناب نگر سے ابتدائی تعلیم کرنے والے آغا جی نے مذہبی تعلیم ایران سے حاصل کی۔ یہ بات سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں ایف آئی اے کی جانب سے کہی گئی ہے۔
رپورٹ: جہانزیب عباسی
عدلیہ کی تضحیک اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس میں ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی ہے۔
ایف آئی اے کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم آغا افتخار الدین مرزا نے 1972 میں چناب نگر سے بی ایس سی کیا، ملزم آغا افتخار الدین مرزا نے قادیانیت ترک کر کے شیعہ مسلک اپنایا اور ایران سے مذہبی تعلیم حاصل کی،افتخارالدین مرزا اس وقت پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں، اُنکی تنظیم اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے بھی فنڈز لے رہی ہے، ادارے میں یتیم بچوں کے لیے اقرا ہاسٹل قائم کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم افتخارالدین مرزا کے ایران، آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں طالب علموں، دوستوں اور رشتیداروں سے رابطے رہے، ملزم کا سب سے بڑا بیٹا سعودی عرب میں جرمن کمپنی میں کام کر رہا ہے،افتخارالدین مرزا کی تمام وڈیوز سوشل میڈیا پر اکبر علی اپلوڈ کرتا تھا، اکبر علی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انہیں افتخارالدین مرزا نے وڈیو ڈیلیٹ کرنے کا کہا تھا،اکبر علی نے کہا وڈیو ایک یوٹیوب کے صارف کے کہنے پر ڈیلیٹ کی، عراق کے جنرل سلیمانی کے قتل کی وڈیوز اپلوڈ کرنے پر یوٹیوب اور فیسبک نے ملزم کے اکاؤنٹس کو بلاک کیا،ملزم افتخارالدین نے معرفت الٰہی اور دین شناس کے نام سے نئے فیسبک پیجز بنائے،افتخارالدین پیدائشی طور پر بلتستان سے تعلق رکھتا ہے۔
ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے معاملے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی،ملزم افتخارالدین مرزا اور شریک ملزم اکبر علی کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔ ملزم افتخارالدین مرزا وڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ ملزم افتخارالدین مرزا نے سوشل میڈیا پر 698 وڈیوز اپلوڈ کیں،تمام وڈیوز کی سکروٹنی کی جا رہی ہے، سکروٹنی اور تجزیے سے یہ دیکھا جائے گا مزید کس کس وڈیو میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، ملزم افتخارالدین مرزا کا سفری ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ ایران، عراق، شام، کویت اور سعودی عرب جاتے رہے ہیں۔
ایف آئی اے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزم افتخارالدین مرزا کا سفری ریکارڈ غیر عمومی ہے،جن موبائل فون کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر وڈیو اپلوڈ کی گئیں ان کا سی ڈی آر حاصل کر لیا ہے، سی ڈی آر کے تجزیے سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ملزم نے ایران، سعودی عرب، ساؤتھ کوریا، ملائیشیا، چائنہ، زمبابوے اور انگلینڈ کالیں کیں،کال ریکارڈ سے مزید لنکس کی شناخت کے لیے تجزیہ کیا جا رہا ہے،چنیوٹ اور راولپنڈی کی ریونیو اتھارٹی سے ملزم کی غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔
ایف آئی اے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ریونیو اتھارٹیز سے جواب کا انتظار ہے،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن کا مکمل ریکارڈ مانگا گیا ہے، اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن نامی ٹرسٹ ملزم افتخارالدین مرزا چلا رہے ہیں،فیڈرل بورڈ سے اقرا پبلک سکول اینڈ کالج کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، فیڈرل بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق اقرا پبلک اسکول اینڈ کالج میں 532 طلبہ نے 2010-2018 تک میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔
ایف آئی اے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر سے ملزم افتخارالدین کے ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ سٹیٹمنٹ کی تفصیلات مانگی گئیں جس کا انتظار ہے، ملک بھر کے تمام بینکوں سے ملزم افتخارالدین کی بینک تفصیلات اور اقرا ویلفیئر آرگنائزیشن کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، بینکوں کی جانب سے تفصیلات کا انتظار ہے۔

