جنس بدل کر شادی کا مقدمہ، طبی معائنے کا حکم
ضلع راولپنڈی کی تحصیل ٹیکسلا میں مبینہ طور پر لڑکی سے لڑکی کی شادی کے خلاف درخواست کی سماعت لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں ہوئی۔
عدالت نے جنس بدلنے کے بعد آکاش علی (عاصمہ بی بی) بننے والے کا میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا حکم دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو طبی بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
بدھ کو جسٹس صداقت علی خان نے ٹیکسلا کے سیشن جج کے فیصلے کے خلاف امجد حسین شاہ کی رٹ پٹیشن کی سماعت کی جن کا مؤقف ہے کہ ان کی بیٹی نیہا علی کو ورغلا کر شادی کرائی گئی ہے اور یہ کہ معاملہ دو لڑکیوں کی آپس میں شادی کا ہے۔
پسند کی شادی کرنے والی نیہا علی اور آکاش (عاصمہ) کو سخت سیکورٹی میں ٹیکسلا پولیس نے عدالت پیش کیا۔ دوران سماعت جنس تبدیل کرانے والی لڑکی عاصمہ بی بی (آکاش علی) نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے کبھی شناخت نہیں چھپائی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نیہا کو پسند کرتے تھے اور نیہا کی پھپھو کو بھی یہ رشتہ پسند تھا اور شادی کی پیشکش بھی انہوں نے کی تھی۔
عدالت نے نیہا علی سے استفسار کیا کہ کیا وہ آکاش علی سے مطمئن ہیں؟ جس پر لڑکی نے اثبات میں جواب دیا۔
دونوں کے وکلاء نے عاصمہ بی بی (آکاش علی) کا میڈیکل کرانے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ نیہا کے والد کے وکیل کی جانب سے نجی میڈیکل لیب سے ٹیسٹ کرانے پر اعتراض کیا گیا۔
عدالت نے ڈی ایچ کیو اسپتال کے ایم ایس کو میڈیکل بورڈ بنانے اور عاصمہ بی بی(آکاش علی) کا طبی معائنہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اگلی سماعت پیر کو ہوگی۔

