اغوا کاروں نے مطیع اللہ جان کو چھوڑ دیا
سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو ان کے اغوا کاروں نے فتج جھنگ کے قریب چھوڑ دیا۔
اغوا کے لگ بھگ دس گھنٹے بعد مطیع اللہ جان کی فیملی کو ایک فون کال کے ذریعے بتایا گیا کہ وہ کوہاٹ روڈ پر فتح جھنگ کے قریب موجود ہیں اور ان کی حالت ٹھیک ہے۔
فون کال کرنے والوں نے بتایا کہ ان کو سڑک پر قائم ایک چیک پوسٹ کے ساتھ موجود ہیں۔
مطیع اللہ جان کے بھائی اور ان کے بیٹے کوہاٹ روڈ پر پہنچے جہاں رات کے سوا گیارہ بجے مطیع اللہ جان سے ملاقات ہوئی اور ان کو لے کر گھر واپس آئے۔
مطیع اللہ جان نے بتایا کہ اغوا کاروں نے اُن سے کوئی بات نہیں کی۔ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور پہلے تین گھنٹے اسلام آباد میں ہی کسی سیل میں رکھا گیا۔
واضح رہے کہ سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو منگل کی صبح سوا گیارہ بجے نامعلوم افراد نے سیکٹر جی سکس سے تین گاڑیوں میں اغوا کیا تھا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے ان کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی۔

