پاکستان24

سرکاری ملازمت: ایک دن کی 14 لاکھ تنخواہ کیسے ملی؟

جولائی 27, 2020

سرکاری ملازمت: ایک دن کی 14 لاکھ تنخواہ کیسے ملی؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک دن نوکری کر کے 14 لاکھ روپے وصول کرنے والے گریڈ 19 کے افسر کو پنشن جاری کرنے کا حکم دینے کے لیے دائر اپیل خارج کر دی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایک دن کام کیا اور14 لاکھ روپے تنخواہ لے لی، اس سے بڑھ کر ڈاکہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سرکاری افسر بہادر نواب خٹک کی پنشن کے حصول کے لیے دائر اپیل کی سماعت کی۔

ان کے وکیل محمد رمضان خان نے عدالت کو بتایا کہ سال 1993 میں بہادر نواب کو بین الصوبائی رابطے کی وزارت میں نوکری ملی مگر تین سال بعد سنہ 1996 میں برطرف کیا گیا جس کے خلاف عدالتوں میں کیس چلتا رہا۔

سال 2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے سنہ 1996 میں برطرف کیے گئے سرکاری ملازمین کو بحال کیا تو بہادر نواب بھی بحال ہو گئے تاہم اس وقت تک ان کی عمر 60 برس ہو چکی تھی۔

برطرف ملازمین کی بحالی کے قانون کے تحت ان کو تنخواہ مل گئی مگر پنشن تاحال نہیں ملی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کہ ایک دن کام کیا اور 14 لاکھ روپے تنخواہ لی، آپ کو پورے پاکستان کا خزانہ نہ دے دیں؟ ایک دن نوکری کر کے 14 لاکھ لیے، اس سے بڑھ کر ڈاکہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل قانون کے مطابق پنشن چاہتے ہیں جو ان کا حق ہے کیونکہ برطرف ملازمین کی بحالی کے قانون میں پنشن دیے جانے کا بھی کہا گیا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا وکیل صاحب، آپ یہ کمال کا کیس عدالت میں لائے ہیں، اسی وجہ سے تو پاکستان اس حال میں آ گیا ہے، اس طرح کی اندھیر نگری نہیں ہونی چاہیے۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں تو ہم کیس ری اوپن کرتے ہیں، پتہ چلے گا کہ 14 لاکھ کیسے وصول کیے گئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگرہم نے یہ اجازت دے دی تو حکومت کو آج ہی 100 ارب روپے دینے پڑیں گے، اگر ایسا ہوا تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ نے گریڈ 19 کے افسر بہادر نواب خٹک کی جانب سے پنشن کے حصول کے لیے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل خارج کر دی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے