سونے کی قیمت میں اضافے کے نئے ریکارڈ قائم
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے اور پاکستان میں فی تولہ عام آدمی کی سال بھر کی تنخواہ کے برابر ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی وجہ کورونا کے بحران کے دوران اضطراب میں مبتلا سرمایہ کار ہیں جو نقد رقم سے سونے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر کی معیشتیں کمزور ہو رہی ہیں اور غیر یقینی کی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔
سونے کی قیمت میں آج 2.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک اونس سونے کی قیمت ایک ہزار 944 ڈالر کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ ستمبر 2011 میں یہ قیمت ایک ہزار 921 ڈالر تھی۔
معاشی ماہرین کے مطابق کئی سرمایہ کار سونے یا قیمتی دھات میں اس لیے سرمایہ کاری نہیں کرتے کیونکہ اس میں سود نہیں ملتا۔ لیکن روایتی طور پر سونا خریدنا محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں پراپرٹی کا بزنس بیٹھنے کے بعد اس وقت سونا کا کاروبار چمک اٹھا ہے۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران پاکستان میں گولڈ کی قمیتوں میں فی تولہ 20 سے 25 ہزار جبکہ دس گرام سونے کی قیمت میں 15 سے 20 ہزار اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں گرنے سے پہلی بار سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ روپے سے اوپر گئی ہے
عالمی صورتحال میں خدشات کے پیشِ نظر اس کی خریداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ رواں سال سونے کی قیمت 25 فیصد سے زیادہ بڑھی ہے۔
امریکی ڈالر میں کمی سے بھی سونے کی قیمت بڑھی ہے۔ سونے کی قیمت اکثر امریکی کرنسی میں بتائی جاتی ہے۔

